بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

تنخواہ سے سیکیورٹی کی کٹوتی


سوال

کالج کے اساتذہ ملازمت کے وقت ایک معاہدہ پر دستخط کرتے ہیں جس میں اور شرائط کے علاوہ درجہ ذیل دو شقیں بھی شامل ہیں:(1)استاد کسی بھی وجہ سے نوکری چھوڑنا چاہے تو تین مہینے پہلے انتظامیہ کو درخواست لکھ کر آگاہ کرے تاکہ متبادل استاد کا بندوبست کیا جاسکے اور بچوں کا وقت ضائع نہ ہو۔(2)استاد کی تنخواہ سے بیس (20)فی صد ماہانہ کچھ کٹوتی کی جائے گی اور جب کٹوتی کی کل رقم تین ماہ کی تنخواہ کے برابر ہوجائے تو مزید کٹوتی بند کر دی جائے گی اور یہ رقم اس کو نوکری چھوڑتے وقت واپس ادا کردی جائے گی ،اسے سیکیورٹی کہا جاتا ہے ۔ انتظامیہ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ کئی اساتذہ پہلی تاریخ کو تنخواہ لے کر بغیر پیشگی (نوٹس )آگاہ کیے نوکری چھوڑ دیتے تھے اور انتظامیہ کو متبادل استاد ڈھونڈنے میں بسا اوقات کئی ہفتے بلکہ مہینے لگ جاتے تھے ۔ کالج سیکیورٹی کی یہ رقم کئی مدات میں صرف کرتا ہے اور بوقت ضرورت اس سے ملازمین کو بلاسود قرض بھی دیا جاتا ہے ۔اب سوالات یہ ہیں :

  1. کیا شرعا ملازمت کے عہدے میں یہ شرائط رکھنے کی ممانعت تو نہیں؟

  2. کیا اساتذہ سے کٹوتی کی رقم کالج کی انتظامیہ کسی انتظامی یا تعلیمی مد میں خرچ کر سکتی ہے ؟نیز انتظامیہ یہ ضمانت بھی دے گی کہ نوکری چھوڑتے وقت رقم کی واپسی یقینی بنائے گی ؟

  3. اگر یہ رقم کسی منافع بخش بینک (اسلامی اکاؤنٹ )میں رکھی گئی ہو تو اس کا منافع متعلقہ استاد کو دینا ضروری ہو گا ؟

جواب

عقد اجارہ کی رو سے مستاجر اور اجیر خاص کے درمیان مدت اجارہ کی تعیین ضروری ہے اور مقررہ مدت پورا ہونے سے پہلے کسی معتبر ومعقول عذر کے بغیر کسی کیلئے عقد اجارہ فسخ کرنا جائزنہیں ۔لہذا کسی ادار ے اور ملازم کے مابین ہونے والے معاہدہ ملازمت میں مفاد عامہ کی خاطر عرف کے مطابق یہ شرط لگا نا جائز ہے کہ ملازم مقررہ مدت اختتام سے قبل طے شدہ طریقہ سے اطلاع دیئے بغیر ملازمت چھوڑ کر نہیں جائے گا ۔

صورت مسؤلہ میں:(1)کالج کے انتظامیہ اور اساتذہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ شرط لگانا شرعا جائز ہے کہ "استاذنوکری چھوڑنے سے تین (3)ماہ پہلے ادارہ کے انتظامیہ کو باخبر کرے گا "کیونکہ تعلیمی ادارہ میں بچوں  کے اوقات کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے یہ شرط مصلحت عامہ  کا تقاضہ ہے اور آج کل عرف میں بھی یہ رائج ہے ۔

(2)ادارے کی طرف سے اساتذہ کی تنخواہوں سے مقررہ مقدار میں جو رقم سیکیورٹی کے طور پر کاٹی جاتی ہے درحقیقت یہ ادارے کے ذمے اساتذہ کا دین ہوتا ہے جو کہ ابھی تک اساتذہ کی ملکیت میں نہیں آیا ہے  بلکہ تاحال یہ رقم ادارے ہی کی ملکیت میں ہے اس لئے شرعا ادارے کا انتظامیہ  اس کو کالج کے دیگر ضروریات ومصالح  میں خرچ کر سکتا ہے ،تاہم معاہدہ ملازمت  کے اختتام پر یہ رقم دین ہونے کی وجہ سے اساتذہ کو حوالہ کرنا ضروری ہو گا ۔

(3)سیکیورٹی رقم چونکہ اساتذہ کی ملکیت  میں نہیں ہو تی اور نہ ہی اس  میں ان کو مالکانہ تصرفات کا اختیار ہو تا ہے لہذا شرعا ادارے  کیلئے ان رقوم میں ہر جائز تصرف اور نفع بخش انوسٹمنٹ جائز ہے اس سے آنے والے منافع ادارے  کی ملکیت  شمار ہو گی ۔

 لو آجر نفسه في عمل أو صناعة ثم بدا له أن يترك العمل لم يكن له ذلك وإن كان ذلك العمل ليس من عمله وهو مما يعاب به كان له الفسخ۔ (الفتاوٰ ی الھندیۃ،کتاب الاجارۃ،الباب التاسع عشرفی فسخ الاجارۃ بالعذر،ج 4ص499)

الاجارۃ بعد ما انعدمت صحیحۃ لایسوغ  للآجرفسخھا۔ (دررالحکام،کتاب الاجارۃ،المادۃ441،ج2ص480)

وأطلق الملك فانصرف إلى الكامل وهو المملوك رقبة ويدا فلا يجب على المشتري فيما اشتراه للتجارة قبل القبض۔ (البحر الرائق ،كتاب الزكوة،ج2ص355)


فتویٰ نمبر : 2792/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں