بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

حکومتی ملازمین کےلیے مفوضہ ڈیوٹی کا حکم


سوال

ہمارے ساتھ سرکاری دفتر میں متعدد افراد(کلرک ،نائب قاصد ،کلاس فور )زیر ملازمت ہیں جب ان سے متعلقہ ڈیوٹی سرانجام دینے کو کہا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو ہمارا کام نہیں ہے ۔چونکہ افسران بالا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماتحت ملازمین سے دفتری کام لے لے لہذا اگر ماتحت ملازمین اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے میں کوتاہی اور غفلت سے کام لیتے ہوں توافسران بالا ان کو تنبیہ دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سستی اورغفلت سے کام لیتے ہیں اور کبھی کبھارہٹ دھرمی اختیار کرتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں ان کے خلاف محکمہ کو رپورٹ دینا جائز ہے یا نہیں ؟اور اس میں ہم گنہگار ہوں گے یا نہیں ۔شریعت کے مطابق رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

                حکومتی یا کسی نجی ادارے کے تنخواہ دار ملازمین "اجیر خاص"کہلاتے ہیں  شرعا اجیر خاص پر لازم ہے کہ مقررہ اوقات میں حاضر ہو کر اپنی وہ  ذمہ داری نبھائے جس کا اس  نے متعلقہ ادارے کے ساتھ معاہدہ کیا ہے ،چنانچہ مقررہ اوقات میں متعین کام کے علاوہ کوئی ذاتی مصروفیت اختیار  کرنا  جائز نہیں ۔

                صورت مسؤلہ میں حکومت کی طرف سے جو ملازمین جن خدمات پر مامور ہوں مقررہ اوقات میں وہی خدمات سرانجام دینا ان کی شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے جس میں کمی اور کوتاہی کرنا تطفیف(یعنی ناپ تول میں کمی کرنے) کے مترادف ہے جوکہ حرام ہےلہذا شرعا  مفوضہ ڈیوٹی میں کام چوری سے کام لینا اور پوری طرح  سرانجام نہ دینا تنخواہ  کے جواز پر اثر انداز ہوگا ۔

              نیز جب ماتحت ملازمین اپنی مفوضہ ذمہ داری  اور خدمات سرانجام دینے میں غفلت اور ہٹ دھرمی  پر اتر آئیں اور  افسران بالا کی بار بار تنبیہ کے باوجود وہ غفلت اور کوتاہی کے شکار ہوں تو ایسی صورت میں  افسران  بالا  کیلئے  ان کے خلاف محکمہ کو رپورٹ دینا اور ان کے خلاف کاروائی کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ لازم ہے اس لئے  کہ یہ رپورٹ دینا  افسران بالاکی ذمہ داری ہے  جس میں چشم پوشی   اور غفلت کا ارتکاب ان کیلئے جائز نہیں ۔

قال الله تعالى:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ۔(المائدۃ:1)يعني العهود قالہ الجماعة۔۔۔وقيل : بل هي العقود التي يتعاقدها الناس بينهم وما يعقده الإنسان على نفسه. (تفسیر الخازن ،ج1ص458)

وقال تعالی :وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِين۔(المطففین:1) التطفيف في الكيل والوزن والوضوء والصلاة والحديث في الموطأ قال مالك : ويقال لكل شيء وفاء وتطفيف۔۔۔المطفف مأخوذ من الطفيف ، وهو القليل ، والمطفف هو المقل حق صاحبه بنقصانه عن الحق۔(الجامع لاحكام القرآن،ج19ص251)

عن نافع عن ابن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ألا كلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته فالأمير الذي على الناس راع ومسئول عن رعيته۔(سنن الترمذی،رقم الحدیث1705،ج4ص208)

وليس للخاص أن يعمل لغيره ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل ۔(الدر المختار،کتاب الاجارۃ،باب ضمان الاجیر ،ج9ص96)


فتویٰ نمبر : 2788/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں