بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

کافر باپ کے ترکہ میں مسلمان بیٹے کا حصہ


سوال

اگر ایک شخص اپنے والد کو کافر سمجھتا ہو ،تو شرعا اس شخص کے لیے والد کا میراث لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسے کافر مسلمان کااور مسلمان کافر کا وارث نہیں بن سکتا تاہم جو شخص نفس الامرمیں کافر نہ ہو وہ محض کسی کے کہنے سے کافر نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی اپنے والد کو کافر سمجھتا ہو تو اگر واقعتا بھی وہ کافر ہو تو اس پر کفر کے احکامات لاگو ہونگے اور چونکہ مسلمان کافر کا وارث نہیں بن سکتا لہذا مسلمان بیٹے کا کافر والد کے ترکہ میں حصہ نہیں ہوگا ،تاہم اگر اس بیٹے کا والد پہلے سے مسلمان تھا اوربعد میں حقیقتا کفر کو اختیار کیا ہوتو ایسی صورت میں وہ مال جو ارتداد کے بعد کمایا ہو  اس میں  بیٹے کو حصہ نہیں ملے گا لیکن جو مال ارتداد سے پہلے کمایا ہو اس میں بیٹے کو بطور میراث حصہ دیا جائے گا۔                 

عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم۔(صحیح البخاری ،کتاب الفرائض ، ج1 ص1001)

الْمُرْتَدُّ إذَا قُتِلَ أو مَاتَ أو لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ فما اكْتَسَبَهُ في حَالِ إسْلَامِهِ هو مِيرَاثٌ لِوَرَثَتِهِ الْمُسْلِمِينَ ۔۔۔۔۔واَمَّا ما اكْتَسَبَهُ في حَالَةِ الرِّدَّةِ فَيَكُونُ فَيْئًا يُوضَعُ في بَيْتِ الْمَالِ۔(الفتاوی الھندیۃ،الباب الرابع فی الحجب والحرمان،ج6ص447)


فتویٰ نمبر : 4061/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں