بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

گیس کمپریسر لگانے کا حکم


سوال

 یہاں سردی کے موسم میں گیس نہیں ہوتی ،تو لوگ گیس حاصل کرنے کے لئے کمپریسر کا استعمال کرتے ہے ،تو یہ استعمال کرنا شرعاًکیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر حکومت کی طرف سے وضع کردہ کوئی قانون عدل وانصاف اور مفاد عامہ کی رعایت پر مبنی ہونے کی بجائے،ظلم وجبر اور لوگوں کے حقوق کے استیصال پر مبنی ہو،تو اس طرح کے قانون میں حاکم کی اطاعت ضروری نہیں،بلکہ احتیاطی تدابیر بروئے کار لاکر اپنے حقوق کی وصولی کی گنجائش ہے۔جیسا کہ" سردی کے موسم میں گیس کی قلّت کے باوجودگیس کھینچنے کے لئے کمپریسر کے استعمال پر پابندی لگانا"،عوام پر حکومت کی طرف سے وضع کردہ اس قانون کی رعایت ضروری نہیں،بلکہ اپنے حق کی وصولی کے لئے کمپریسر لگانے کی گنجائش ہے۔اور اسکی بنیادی وجہ یہ ہےکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو ان کی بنیادی ضروریات مہیّا کرے،مثلاً:پانی ،بجلی ،گیس وغیرہ سردی کے موسم میں جب گیس کی ضرورت  بڑھ جاتی ہے،تو عوام کے درمیان منصفانہ طریقے سے گیس تقسیم کرکے عوم کو ان کا  بنیادی حق فراہم کرنےکی بجائے، حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے  عوام کو گیس کی سپلائی متاثر ہوتی ہے،اور اسی طرح حکومت کمرشل جگہوں میں بکثرت  گیس سپلائی کرتی ہے،جبکہ دیگر عوام کو ان کےبنیادی حق سےبھی محروم رکھا جاتا ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص سردی کے موسم میں گیس کی قلّت کی وجہ سےگیس کھینچنے کے لئے کمپریسر لگائے،تو دوسرے لوگوں کی تکلیف وایذارسانی سے  قطع نظر اپنے حق کی حصولی کے لئےاس کی گنجائش ہے۔

اور جہاں تک کمپریسر لگانے کی  وجہ سے دوسرے لوگوں تک گیس کی سپلائی متاثر ہونے کا معاملہ ہے ،تو اس کی ذمّہ دار بھی حکومت اور ارباب اقتدار طبقہ ہی ہے،کیونکہ حکومت اس معاملے میں عدل وانصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی ۔اس لئےحکومت کی ذمّہ داری ہے،کہ گیس کنکشن کےمنصوبوں میں مزید وسعت پیدا  کرنےکی بجائےجن جگہوں میں گیس کنکشن دیے ہیں وہاں  سپلائی یقینی بنائےتاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔

"وهذاالحكم،أي وجوب طاعة الأميرمختص بمالم يخالف أمره الشّرع ،يدلّ عليہ سیاق الآیۃ؛فإنّ اللہ تعالیأمر الناس بطاعۃ أولی الأمر بعد ماأمرھم بالعدل في الحکم،تنبیھاعلی أنّطاعتھم واجبۃ ما داموا علی العدل"۔(أحكام القرآن،التھانوي،ظفرأحمدج 2ص 229مکتبہ:إدارة القرآن كراتشي)

"...لأنّ للسلطان ولايةَالنظر دون الإضراربالعامة"(الفتاوی الھندیۃ،لجماعۃ علماء الھند،کتاب الشرب،فصل فی المتفرقات،ج5ص464،دارالفکر)

التصرف علی الرعیۃ منوط بالمصلحۃ۔۔۔ومما یتفرع علی ھذہ القاعدۃان للوالی ان یعطی من طریق الجادۃ احدا لیبنی علیہ اذا کان لا یضر بالعامۃوان کان یضرلیس لہ ذلک۔(شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ،المقالۃ الثانیۃ فی بیان القواعد الفقہیۃ،المادۃ ،58،ص43)


فتویٰ نمبر : 4569/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں