بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بغیر اجازت کسی کی ذاتی رہائش گاہ میں جھانکنے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص کسی ایسے کمرے کے سامنے سے گزرے جس میں شیشے لگے ہوئے ہو ں اور وہ شیشے سے اندر دیکھ کر کسی کی ذاتی زندگی سے آگاہ ہو تو کیا یہ شرعا درست ہے ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے شخص کے ذاتی معاملات  یا خانگی زندگی میں بے جا مداخلت  کر کے اس کی عزت وآبرو کو پامال کرے ،یا کسی دوسرے کے گھر میں جھانکے یا بغیر اجازت داخل  ہو۔چنانچہ ارشادباری تعالی ہے﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا ﴾ ترجمہ:(اے ایمان والو!اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں بغیر اجازت  کے مت جاؤ یہاں تک کہ تم اجازت حاصل کرلو)اسی طرح حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے گھر میں جھانکا ،آپﷺ باریک سینگی سے سر مبارک کھجلا رہے تھے ،آپﷺ نے فرمایا :"لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ"(اگر میں جانتا کہ تو گھر میں دیکھ رہا ہے تو تیری آنکھ میں سینگی مارتا )اور پھر آپﷺنے فرمایا:"إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ البَصَرِ"(اجازت حاصل کرنے کا حکم دیکھنے ہی کی وجہ سے ہے )۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ بغیر اجازت کے کسی کے گھر یا ذاتی رہائش گاہ میں دیکھے یاداخل ہو ۔اور اس کی بنیادی وجہ  یہ ہے کہ آدمی کبھی تنہائی میں بے تکلف حالت میں  ہوتا  ہے ، اور کبھی کسی ضرورت سے برہنہ  بھی ہوجاتا ہے پس اگر کوئی اچانک گھر میں  دیکھے گایاگھس آئے گا تو اس کے ستر پر نظر پڑے گی۔تاہم بغیر اجازت کسی کے گھر میں دیکھنے یا  داخل ہونے کی ممانعت سے وہ مخصوص حالات مستثنی ہیں جن حالات میں تجسس کی  شرعاً اجازت ہو مثلا :کوئی شخص یا گروہ واضح طور پر کسی  غیر شرعی فعل کے ارتکاب میں مصروف ہو تو حاکم کو اس بات کی اجازت ہے کہ اس کے روک تھام کے لیے ان لوگوں پر بغیر اجازت کے داخل ہوجائے  ،یا اسی طرح کسی تعلیمی ادارے مثلا :سکول ،کالج ،مدرسہ کے اساتذہ اور منتظمین کو اس بات  کی  اجازت  ہے کہ وہ طلبہ کی نگرانی کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے ہاسٹل یا کمرہ میں بغیر اجازت داخل ہو کر  طلبہ  کے حالات سے آگاہی حاصل کریں ۔

صورت مسؤلہ میں اگر کوئی شخص کسی ایسے کمرے کے سامنے سے گزرے جس میں شیشے  لگے  ہوئے ہوں ،اور وہ قصدا ًوارادۃ شیشے سے اندر دیکھ کر کسی کی ذاتی زندگی سے آگاہ ہو تو یہ شرعا ًممنوع ہے ،البتہ اگر یہ دیکھنا بغیر قصد وارادے  کے غلطی سے واقع ہو ،اور پھر فوری طور پر نظر پھیر  دی جائے توشرعا ًاس میں کوئی حرج نہیں ۔

قال اللہ تعالی :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النور آیت 27)

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ البَصَرِ»(صحیح البخاری کتاب الاستیذان  ،باب الاستیذان من اجل البصر ج4 ص1752 الطاف اینڈ سنز کراتشی )

هذا إذَا كان الدُّخُولُ لِلزِّيَارَةِ وَنَحْوِهَا فَأَمَّا إذَا كان الدُّخُولُ لِتَغْيِيرِ الْمُنْكَرِ بِأَنْ سمع في دَارٍ صَوْتَ الْمَزَامِيرِ وَالْمَعَازِفِ فَلْيَدْخُلْ عليهم بِغَيْرِ إذْنِهِمْ لِأَنَّ تَغْيِيرَ الْمُنْكَرِ فَرْضٌ فَلَوْ شُرِطَ الْإِذْنُ لَتَعَذَّرَ التغير (بدائع الصنائع ،کتاب الاستحسان ،ج 6،ص500مکتبہ دارالکتب العلمیۃ)

إنما شرع الاستئذان في الدخول لأجل أن لا يقع البصر على عورة أهل البيت ولئلا يطلع على أحوالهم۔۔۔وهذا مخصوص بمن تعمد النظر وإذا وقع ذلك منه من غير قصد فلا حرج عليہ۔(عمدۃالقاری ،کتاب الاستیذان ،باب الاستیذان من اجل البصر ج22ص 239دارالاحیا التراث  العربی)


فتویٰ نمبر : 4560/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں