بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
تادیبی سزا میں تخفیف اور عفو کا حکم
سوال
اگر کسی ادارے میں طلباء کی تربیت واصلاح کے لئے کوئی ضابطہ بنایا گیا ہو اور کوئی طالب علم اس کی خلاف ورزی کرے تومقررہ تادیبی کارروائی میں تخفیف یا عفو کا اختیار حاصل ہے یا نہیں ؟ نیز ریاست اورکسی ادارے کے اہل کاروں کے اختیارات کے درمیان فرق ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کسی ادارے میں طلباء کی تربیت واصلاح کے لئےجو ضابطے بناۓ جاتے ہیں ،ان کا لحاظ رکھنا اور ان پر عمل کرنا طلباءپر لازم اور ضروری ہے ،اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں مسئول کو تادیبی کارروائی کا حق حاصل ہوتا ہے، جو کہ شرعی نقطہ نظر سے تعزیر کے دائرہ میں داخل ہے ، تعزیر میں شریعت کی طرف سے سزا کی کوئی حد مقررنہیں ہوتی بلکہ اس کو متعین کرنا حاکم وقت اور قاضی کی صوابدید پر موقوف ہوتاہے کہ وہ جرم کی نوعیت ،مجرم کی شخصیت اور حالات کو مد نظر رکھ کر سزا متعین کرے۔ البتہ بعض صورتوں میں قاضی کے علاوہ دوسرے سربراہ مثلاً باپ،خاوند اور استاد کو بھی شرعا تعزیر اور تادیبی کاروائی کا حق حاصل ہوتا ہے ،جیسے بیٹا یا بیوی سوء ادب کا مظاہرہ کرے یا شاگرد ضابطہ کو توڑدے وغیرہ۔ تاہم تعزیر سے چونکہ زجر اور جرائم کا انسداد مقصود ہوتا ہے ،اسلئے متعین سزا کو نافذ کرنا لازم اور ضروری نہیں ،بلکہ اگر قاضی یا ادارے کے مسئول اور منتظم کو غالب گمان ہو کہ اس متعین سزا کے علاوہ بھی مقصود حاصل ہو سکتا ہے تو وہ متعین سزا میں تخفیف ، عفو یا تبدیلی کے بھی مجاز ہیں ۔لیکن اگر تعزیری سزا معاف کرنے کی صورت میں مفاد عامہ کو نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہو تو اس صورت میں چشم پوشی کے بجائے تادیبی کارروائی کرنا بہتر ہوگا۔
صورت مسئولہ میں اگر کوئی طالب علم ادارے کی طرف سے مقررہ ضابطے کی خلاف ورزی کرے اور وہ اس ضابطے سے واقف بھی ہو تو اس ضابطے کی خلاف ورزی پر ادارے کے مسئول کیلئے تادیبی کارروائی کا حق حاصل ہے ،نیز مسئولین حضرات کو مجرم، جرم ،حالات اور اس پر مرتب ہونے والے نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سزا میں تخفیف یا عفو اورمناسب تبدیلی کا اختیار بھی حاصل ہے۔
جہاں تک ریاست اور ادارے کے اہل کاروں کے اختیار میں یکسانیت یا فرق کا تعلق ہے تو اس میں اس اعتبار سے فر ق پایا جاتا ہے کہ حاکم اور قاضی کو ولایت عامہ حاصل ہوتی ہے اسلئے وہ تمام تر حدود اور تعزیرات کو نافذ کرنے کے مجاز ہیں ،جبکہ ادارے کے اہل کاروں کو ولایت عامہ حاصل نہیں ہوتی اسلئے ان کو حدود کے نافذ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ۔البتہ اس اعتبار سے ان کے اختیار میں یکسانیت پائی جاتی ہے کہ ریاست اور ادارے دونوں کے اہل کاروں کو متعین سزا میں مصلحت کی بنا پر تخفیف، عفواور تبدیلی کا اختیارحاصل ہے۔
والتعزير ليس فيه تقدير بل هو مفوض إلى رأي القاضي وعليه مشايخنا زيلعي لأن المقصود منه الزجر، وأحوال الناس فيه مختلفۃ۔(الدرالمختارعلی صدر رد المحتار، کتاب الحدود، باب التعزیر، 6/ 106، دارالکتب العلمیہ)
يعزر المولى عبده قال في الفتح: وإذا أساء العبد الأدب حل لمولاه تأديبه، وكذا الزوجة۔(ردالمحتارعلی الدر المختار، کتاب الحدود، باب التعزیر، 6/128)
التعزير حق العبد كسائر حقوقه يجوز فيه الابراء والعفو۔(فتح القدیرشرح الھدایۃ،کتاب الحدود،فصل في التعزیر،113/5،مکتبہ حقانیہ)
قوله والأدب بمعنى التأديب وهو أعم من التعزير ومنه تأديب الوالد وتأديب المعلم۔(عمدۃ القاری، کتاب الحدود، باب کم التعزیر والادب، 24،23، احیاء التراث العربی)
بخلاف الحدود لم يثبت توليتها إلا للولاة، وبخلاف التعزير الذي يجب حقا للعبد بالقذف ونحوه فإنه لتوقفه على الدعوى لا يقيمه إلا الحاكم إلا أن يحكما فيه.(رد المحتارعلی الدر المختار، کتاب الحدود، باب التعزیر111/6)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں