بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 19/10/2026 |
دارالافتاء
گھنٹی استعمال کرنے کا حکم
سوال
تعلیمی وسائل میں گھنٹی کا استعمال شرعا جائز ہے یا نہیں جب کہ حدیث میں اذان کےموقع پر ضرورت ہونے کے باوجود گھنٹی کے استعمال سے احتیاطی پہلو روا رکھا گیا۔ دینی مدارس میں گھنٹی کا استعمال اسلامی ثقافت سے اگر متصادم ہو تو متبادل کیا صورت ہو سکتی ہے ؟
جواب
جرس (گھنٹی )کے استعمال کے متعلق آپ ﷺکے متعدد ارشادات ہیں جن سے بظاہر گھنٹی کے استعمال کی ممانعت معلوم ہوتی ہے چنانچہ آپﷺ کا ارشاد ہے"لا تصحبُ الملائكةُ رُفْقةً فيها كلبٌ أو جَرسٌ"ترجمہ :فرشتے ایسی جماعت کا ساتھ نہیں دیتے جس میں گھنٹی یا کتا ہو "تاہم ان احادیث میں مذکور گھنٹی کی ممانعت مطلقا نہیں ۔چنانچہ امام محمد رحمہ اللہ کی مشہوركتاب"السیر الکبیر" کی شرح میں علامہ سرخسی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ چونکہ بسا اوقات گھنٹی کا استعمال مسلمانوں کے خلاف کفار کے لیے خبرداری کا ذریعہ ہوتا تھا جو کہ انجام کے اعتبار سے مسلمانوں کے لیے نقصان کا سبب تھا اس لئے اس کی ممانعت روایات میں واردہوئی ہے لیکن اگر گھنٹی کے استعمال کے ساتھ واقعی مسلمانوں کی کوئی حاجت اور فائدہ وابستہ ہو اور گھنٹی بجانے سے مقصود لذت و سرور یا کسی کی دل آزاری نہ ہو بلکہ ضرورت کے حدود میں اس کا استعمال کیا جائے تو ایسی صورت میں اس کے استعمال کو ناجائز قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
لہذاصورت مسئولہ میں تعلیمی وسائل کی حد تک گھنٹی کا استعمال ایک ایسی ضرورت ہے جس سے انکار مشکل ہے جس طرح تعلیمی نظام میں دیگر آلات (کمپیوٹر ، لاؤڈ سپیکروغیرہ)کا استعمال ضرورت کے پیش نظر ہے اسی طرح انتظامی نظم و ضبط اور اوقات کی حفاظت کی خاطر تعلیمی ادارے میں گھنٹی کا استعمال بھی ہے نیز ادارے میں ایسے امور کے لیے گھنٹی کا استعمال کسی اسلامی ثقافت سے متصادم بھی نہیں اور نہ اس میں عبادت کا پہلو ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ مشابہت کے خطرے سے ناجائز ہو لہذا ضرورت کے تحت اس کا استعمال جائز ہے۔
جہاں تک نماز کے لیے لوگوں کو گھنٹی کے ذریعے جمع کرنے کا مسئلہ تھا تو چونکہ اذان عبادت ہے اور نصاری اسی غرض کے لیے ناقوس بجاتے تھے تو اگر اذان کی بجائےگھنٹی کا استعمال ہوتاتو اس میں غیر مسلموں کے ساتھ عبادت کے طور طریقوں میں تشبہ تھا جو کہ جا ئز نہیں لہذا شریعت نے اذان کے باب میں اس کا استعمال مشروع قرار نہیں دیا ۔نیز نماز دین اسلام کا ایک اہم رکن ہے جس کے لیے لوگوں کو گھنٹی کے ذریعے سے جمع کرنا مصالح دین کے مناسب بھی نہیں بلکہ ایسے پیغام کی ضرورت تھی جس میں اس اہم رکن کی طرف دعوت کے ساتھ ساتھ ترغیب بھی ہواوراعلان توحید بھی ۔اس لیے نماز کے لیے گھنٹی کی بجائے اذان مشروع ہو ئی ۔
عن أبي هُريرةَ، قال: قالَ رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم-: "لا تصحبُ الملائكةُ رُفْقةً فيها كلبٌ أو جَرسٌ۔(سنن أبي داؤد ، كتاب الجهاد باب في تعليق الاجراس ج 1 ص 346)
وهذا اذا خليا عن المنفعة ، وأما مااحتيج إليه منهما فرخص فيه۔(بذل المجهود في حل أبي داؤد ،كتاب الجهاد في تعليق الإجراس ج 12ص 53 )
وتأويل هذه الآثار عندنا أنه كره اتخاذ الجرس للغزاة في دار الحرب ، فإنهم إذا قصدوا أن يبيتوا العدو علم بهم العدو بصوت الجرس فيبدرون بهم .فإذا كانوا سرية علم بهم العدو فأتوهم فقتلوهم .فالجرس في هذه الحالة يدل المشركين على المسلمين فهو مكروه .وأما ما كان في دار الإسلام فيه منفعة لصاحب الراحلة فلا بأس به ، يعني قد ينتفع المسلمون في أسفارهم بصوت الجرس يدفعون به النوم عن أنفسهم ، ومن يضل عن الطريق يتمكن من اللحوق بهم بصوت الجرس فلا يضل .ومن الدواب ما ينشط في السير بصوت الجرس .فإذا أمنوا اللصوص ، وكان في الجرس منفعة لهم بهذه الصفة فلا بأس باتخاذه . (شرح كتاب السير الكبير للإمام محمد بن السرخسي ، باب كراهية الجرس ج1 ص 65 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں