بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
زوجہ مجنون کی تفریق کا شرعی حکم
سوال
ایک شخص کا نکاح ہوا ہے اور ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ، اور نکاح کے بعد وہ لڑکا (شوہر) پاگل ہوچکا ہے اور مجنون کے حکم میں ہے ، اب لڑکی خلع کرنا چاہتی ہے تو خلع کا کیا طریقہ کار ہوگا؟ اس لئے کہ لڑکا تو مجنون ہے اور مجنون کی طلاق شرعا معتبر نہیں۔
جواب
شرعی نقطہ نظر سےعورت کو شوہر میں موجود جن عیوب کی وجہ سے فسخ نکا ح کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ان میں سے ایک جنون بھی ہے، لہذا اگر کوئی شخص عقد نکاح سے پہلے سے مجنون ہو تو شرعا چند شرائط کے ساتھ اس کی بیوی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کورٹ میں درخواست دائر کر کے فسخ نکاح کا مطالبہ کرے۔ وہ شرائط درجہ ذیل ہیں۔
1۔ نکاح سے پہلے عورت کو جنون کا علم نہ ہو۔
2۔ جنون کے معلوم ہونے کے بعد عورت نے رضا مندی کی تصریح نہ کی ہو۔
3۔ جنون کے معلوم ہونے کے بعد عورت نے اپنے اختیار سے جماع یا دواعی جماع یعنی لمس اور تقبیل وغیرہ پر قدرت نہ دی ہو۔
اور اگر کوئی شخص نکاح کے وقت صحت مند ہو لیکن نکاح کے بعد وہ جنون میں مبتلا ہو جا ئے تو اس کی بیوی کو فسخ نکاح کے مطالبہ کے اختیار کے متعلق ائمہ احناف سے کوئی روایت موجود نہیں،البتہ متاخرین علماء کرام نے ضروت کی بناء پر مالکیہ کے قول کو اختیار کرتے ہوئے اس صورت میں بھی فسخ نکاح کے مطالبہ کی گنجائش دی ہے،بشرط یہ کہ شوہر کے جنون میں مبتلا ہو جانے بعد عورت نے رضامندی کی تصریح نہ کی ہو ، اور نہ ہی اپنے اختیارسے جماع یا دواعی جماع پر قدرت دی ہو، نیز عورت کو اس کے ساتھ رہنے میں نا قابل تحمل بوجھ ہو یا اس کے ساتھ رہنے میں جان کا خطرہ محسوس کرتی ہو۔
صورت مسولہ میں جب لڑکا نکاح کے بعد جنون میں مبتلا ہوا ہےاور ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ہےتو عورت کو فسخ نکاح کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، جس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ عورت کورٹ میں درخواست دائر کر کے فسخ نکاح کا مطالبہ کرے ، اور کورٹ اس شخص کے جنون کی تحقیق کے لئے میڈیکل بورڈ بنوائے ، اگر میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق جنون ثابت ہو جائے تو کورٹ علاج معالجہ کے واسطہ ایک سال کی مہلت دے ، سال گزرنے کے بعد اگر جنون بدستور برقرار رہاہو تو كورٹ عورت اور مجنون کے ولی کی موجود گی میں دونوں کے درمیان تفریق کرے،تاہم اگر فیصلہ سے قبل جنون ختم ہو گیا ہو تو عورت کو تفریق کے مطالبہ کا حق بھی باقی نہیں رہے گا۔
قال محمد رحمه الله تعالى إن كان الجنون حادثا يؤجله سنة كالعنة ثم يخير المرأة بعد الحول إذا لم يبرأ وإن كان مطبقا فهو كالجب وبه نأخذ كذا في الحاوي القدسي۔(الفتاوي الهنديه ،كتاب الطلاق،الباب الثانی عشرفي العنين،1/579،مطبع:دار الفكر)
وكذلك إذاوجدته مجنونا موسوسا يخاف عليها قتله۔(كتاب الأثار،كتاب النكاح،باب الرجل يتزوج وبه العيب والمرأة،ص:85،مطبع: إدارةالقرآن والعلوم الإسلاميه)
وقال مُحَمَّدٌ خُلُوُّهُ من كل عَيْبٍ لَا يُمْكِنُهَا الْمُقَامَ معه إلَّا بِضَرَرٍ كَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ شَرْطُ لُزُومِ النِّكَاحِ حتى يُفْسَخَ بِهِ النِّكَاحُ۔(بدائع الصنائع،كتاب النكاح،فصل في ما سوي العيوب الخمسة،3/595،دارالكتب العلمية)
قَالَ : وَقَالَ لِي مَالِكٌ فِي الْمَجْنُونِ إذَا أَصَابَهُ الْجُنُونُ بَعْدَ تَزْوِيجِهِ الْمَرْأَةَ : إنَّهُ يُعْزَلُ عَنْهَا وَيُضْرَبُ لَهُ أَجَلُ سَنَةٍ فِي عِلَاجِهِ ، فَإِنْ بَرِئَ وَإِلَّا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا۔(المدونة الكبري،كتاب النكاح الثاني في ضرب الأجل لإمرأةالمجنون و الجذام،2/187،دارالكتب العلميه)
وَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا لِلْحَالِ في الْجَبِّ وَبَعْدَ التَّأْجِيلِ في الْعِنِّينِ لِأَنَّ الْجُنُونَ لَا يَعْدَمُ الشَّهْوَةَ بِخُصُومَةِ وَلِيٍّ إنْ كان وَإِلَّا فَمَنْ يُنَصِّبُهُ الْقَاضِي ۔(البحرالرائق،كتاب الطلاق،باب العنين و غيره،4/207،دارالكتب العلميه)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں