بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں صرف نرینہ اولاد کو مال ہبہ کرنا


سوال

میری پانچ بہنیں ہیں اور میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں اور میرے والد حیات ہیں ، میرے والد نے مجھے اپنی زندگی میں رہائشی گھر( جس میں ہم رہائش پذیر ہیں) اور چند رقوم ہبہ کی ہیں اور مجھے اس کا مالک بھی بنایا ہے البتہ اس کے علاوہ گھر ، زمینیں اور کچھ پیسے بھی موجود ہیں جو کہ میرے والد کی ملکیت ہیں چنانچہ:

  1. میرے والد کا مجھے یہ ہبہ کرنا شرعی لحاظ سے کیسا ہے؟

  2. یہ گھر اور چند رقوم مجھے ہبہ کرنے سے میری بہنوں کی حق تلفی تو نہیں ہوگی؟

  3. اگر مجھے مالک بنانا درست ہے تو اس پر زکوۃ کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

 ہر شخص  اپنی حیات میں  اپنے ذاتی مال و جائیداد میں ہر قسم کے جائز  تصرف کا اختیار رکھتاہے  چنانچہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی خوشی اور رضامندی سے مملوکہ مال اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو انصاف سے کام لیکر  تمام اولاد (چاہے بیٹے ہوں یا بیٹیاں) میں برابر تقسیم کرے ، کسی کو بغیرمعقول وجہ  کم دینے یا محروم کرنے سے گناہ گار ہوگا ،  تاہم یہ گناہ ہبہ کرنے والے تک محدود رہے گا موہوب لہ تک اس کا اثر نہیں پہنچتا اسی طرح موہوب لہ جب ہبہ کو قبول کرے اور اس پر قبضہ کرے تو ہبہ تام ہوکر موہوبہ  چیز واہب کی ملکیت سے نکل کرموہوب لہ کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے ۔صورت مسئولہ میں:

(1)ہبہ  کے مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ واہب (ہبہ کرنے والا) موہوبہ چیز (جس چیز کو ہبہ کیا جارہاہے) موہوب لہ(جس کو ہبہ کیا جارہا ہے) کے  قبضہ اور تصرف میں دے دے اور اس سے اپنا تصرف مکمل طور پر ختم کردے ورنہ شرعاً ہبہ درست نہیں ہوتا، نیز ہر چیز کا قبضہ اسی چیز کے مطابق ہوتا ہے، مکان کا قبضہ  تام ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ واہب  اپنا سامان وغیرہ اس میں سے نکال دے اور خود بھی کچھ  وقت کے لیے اس مکان سے نکل جائےاور اگر مکان میں موجود سامان بھی مکان کے ساتھ ہبہ کردیا جائے  تو پھر اس مکان اور موہوب لہ  میں تخلیہ کردینا کافی ہے اورتخلیہ کی صورت یہ ہے کہ  واہب کچھ وقت کے لیے اس مکان سے نکل جائے تو موہوب لہ کا قبضہ تام ہوجائے گا، پھر ہبہ کرنے والا اگر موہوب لہ کی اجازت سے اس مکان میں رہائش اختیار کرے تو ہبہ تام ہونے کے بعداس کی گنجائش ہوگی لیکن اگر ہبہ کرنے والا خود اس مکان میں موجود ہو  یا اس کا سامان موجود ہو اور وہ صرف مکان کسی کو ہبہ کردے تو  یہ ہبہ مکمل نہیں ہوتا  لہذا مذکورہ صورت میں موہوبہ مال پراگر سائل نے قبضہ کیا ہوتو اس میں ہبہ درست ہے جبکہ موہوبہ مکان اگر مذکورہ طریقے سے ہبہ نہ ہوا ہو تو ہبہ تام نہ ہونے کی وجہ سے مکان والد کی ہی ملکیت میں شمار ہوگا۔

(2)  والد اپنی اولاد میں سے صرف بیٹے کو مال و جائیداد ہبہ کرےاور  بقیہ اولاد کو بغیر کسی معقول وجہ کے ہبہ سے محروم رکھے تو اس سے وہ گنہگار ہوگا  لہذا والد کو چاہئے کہ تمام اولاد کے مابین مملوکہ مال وجائیداد برابر تقسیم کرے۔

(3)  ہبہ تام ہونے کے بعد  موہوبہ مال واہب کی ملکیت سے نکل کر موہوب لہ کی ملکیت میں داخل ہوجاتا ہے    چونکہ رہائشی گھر ضروریات اصلیہ میں شامل ہے لہذا اس پر زکوۃ  نہیں جبکہ باقی موہوبہ مال سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ  موہوب لہ  کی ملکیت میں اگر پہلے سے مال موجود ہو  اور وہ صاحب نصاب ہوتو ایسی صورت میں موہوبہ  مال  پر سال کا گزرنا شرط نہیں  بلکہ موہوبہ مال کو اصل مال سے ملا کر زکوۃ ادا کی جائے گی لیکن اگر موہوب لہ پہلے سے  صاحب نصاب نہ ہو بلکہ اس ہبہ شدہ مال سے صاحب نصاب بنا ہو تو ایسی صورت میں جس تاریخ سے صاحب نصاب بناہے اس پر ایک قمری سال گزر جائے تو زکوۃ واجب ہوگی۔

ومنها أن لا يكون الموهوب مشغولا بما ليس بموهوب لأن معنى القبض وهو التمكن من التصرف في المقبوض لا يتحقق مع الشغل وعلى هذا يخرج ما إذا وهب دارا فيها متاع الواهب وسلم الدار إليه أو سلم الدار مع ما فيها من المتاع فإنه لا يجوز لأن الفراغ شرط صحة التسليم والقبض ولم يوجد قيل الحيلة في صحة التسليم أن يودع الواهب المتاع عند الموهوب له أولا ويخلي بينه وبين المتاع ثم يسلم الدار إليه فتجوز الهبة فيها لأنها مشغولة بمتاع هو في يد الموهوب له ۔۔۔۔ ولو أخرج المتاع من الدار ثم سلم فارغا جاز وينظر إلى حال القبض لا إلى حال العقد لأن المانع من النفاذ قد زال فينفذ كما في هبة المشاع ۔۔۔۔ ولو جمع في الهبة بين المتاع وبين الدار الذي فيها فوهبهما جميعا صفقة واحدة وخلى بينه وبينهما جازت الهبة فيهما جميعا لأن التسليم قد صح فيهما جميعا۔ (البدائع الصنائع،كتاب الهبة،فصل و اما الشرائط فانواع،ج6،ص125)

ولو وهب جميع ماله لابنه جاز فی القضاء و هواثم۔   (خلاصة الفتاوى، ج4، ص400)

والمستفاد في الحول لا يخلو إما إن كان من جنس الأصل وإما إن كان من خلاف جنسه فإن كان من خلاف جنسه ۔۔۔ فإنه لا يضم إلى نصاب الأصل بل يستأنف له الحول بلا خلاف وإن كان من جنسه فأما إن كان متفرعا من الأصل أو حاصلا بسببه ۔۔۔۔ يضم إلى الأصل ويزكي بحول الأصل بالإجماع وإن لم يكن متفرعا من الأصل ولا حاصلا بسببه فإنه يضم إلى الأصل عندنا۔  (البدائع الصنائع،فصل و اما الشرائط اللتي ترجع الى المال،ج2،ص13)


فتویٰ نمبر : 4547/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں