بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مشترکہ زمین تقسیم کیے بغیرمسجد کےلیے وقف کرنا


سوال

ہمارے علاقے میں رواج ہے کہ بہنوں کو میراث میں لوگ حصہ نہیں دیتے۔تو اگر بھائیوں نےآپس میں مشورہ کرکے بہنوں کی اجازت اور مشورےکے بغیر مشترکہ زمین کو مسجد کےلیے وقف کی ہو اور اس پر مسجد بھی بنائی ہو۔اور ابھی تک بہنوں سے اجازت نہیں لی گئی تو کیا یہ وقف صحیح ہے اور مسجد ،مسجدِ شرعی ہے؟ اس کے علاوہ مشترکہ زمین میں سے مسجد کے چاروں طرف ایک ایک مرلہ زمین مسجد کی توسیع کے لیےوقف کی ہے تو کیا یہ وقف صحیح ہے؟اس میں ایک طرف کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری طرف زمین مسجد کےلیے دینا صحیح ہے یعنی استبدالِ وقف جب کہ اس میں مسجد کےلیے نفع زیادہ ہو؟

جواب

اگرکسی مشترکہ زمین میں تمام شرکا وقف کرنے پر راضی نہ ہوں تو تقسیم سےقبل بعض  کے وقف  کرنے سےوقف درست نہیں ہوگا۔صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی بھائیوں نے بہنوں کو میراث میں حصہ نہ دیاہو اوربہنوں کی اجازت کے بغیر مشترکہ زمین کو مسجد کےلیے وقف کیاہو تو یہ وقف جائز نہیں کیونکہ یہ دوسرے کی زمین اس کی اجازت کے بغیر وقف کرنا ہے،جو شرعاً جائز نہیں۔اور اگر بھائیوں نےاپنے حصے کے بقدر زمین وقف کی ہو تو تقسیم سے قبل یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ وقفِ مشاع ہے۔بہرحال ازروئے شریعت یہ وقف درست نہیں اور جب وقف درست نہ ہوا تو یہ مسجد بھی مسجدشرعی نہیں ہوسکتی۔تاہم اگر بہنوں کو ان کی رضامندی سے ان کے حصے کے بدلے قیمت دی جائے یا کسی اور زمین سےحصہ دیاجائےاور پھر وقف کیا جائے تو وقف درست ہوجائےگا۔

وَقْفُ الْمُشَاعِ الْمُحْتَمِلِ لِلْقِسْمَةِ لَا يَجُوزُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَبِهِ أَخَذَ مَشَايِخُ بُخَارَى وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف الباب الثاني  فيما يجوز وقفه، فصل في وقف المشاع،ج2ص354)

لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك غيره بلا إذنه أو  وكالةمنه أو  ولايةعليه،وإن فعل كان ضامنا.(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:96ج1ص61)


فتویٰ نمبر : 4546/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں