بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
رنگ کے ڈبے میں موجود ٹوکن کی رقم کا حکم
سوال
ایک آدمی پینٹر (رنگساز)ہے وہ اجرت پر رنگ کا کام کرتا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے رنگ کی بالٹی مالک خرید تا ہے پھر ہم اس رنگ کے ساتھ اس مالک کے گھر وغیرہ کو رنگ دیتے ہیں اور وہ مالک ہمیں یومیہ اجرت دیتا ہے اب مسئلہ یہ ہے کہ اس رنگ کی بالٹی میں 100روپوں یا اس سے زیادہ کا ٹوکن ہوتا ہے تو اس ٹوکن میں موجودہ روپوں کا لینا ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
رقم کے عوض کسی کیلئے کوئی عمل سر انجام دینا اجارہ کہلاتا ہے جس میں اجیر کیلئے مقررہ عوض تو لینا جائز ہے لیکن متعین اجرت کے علاوہ مستاجر کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے زیادہ رقم لینا جائز نہیں ۔تاہم اگر وہ اپنی رضامندی سے کچھ زیادہ رقم وغیرہ دے دے تو اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں ۔
صورت مسؤلہ میں مذکورہ شخص جو رنگ دینے کے واسطے اجرت پر رکھا گیا ہے وہ عمل کرنے سے مقررہ اجرت کا حق دار ٹھہرتا ہے لیکن رنگ کی بالٹی جب مالک کی ملکیت ہے توٹوکن کے روپوں کا بھی مستحق بھی مالک ہی ہوگا لہذا شرعا رنگساز کیلئے یہ رقم لینا حلال نہیں ۔
عَنْ أَبِى حُرَّةَ الرَّقَاشِىِّ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ :« لاَ يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ ».(السنن الکبری للبیہقی،باب من ادخل لوحا ج6ص100)
إنها نوعان نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور ۔۔۔ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة ۔(الفتاوى الهندية،كتاب الاجارة،الباب الاول في تفسير الاجارةج4ص411)
ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها(ايضاج4ص411)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں