بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے حدود میں سکول چلانا


سوال

مسجد کے حدود میں  سکول چلانا کیسا ہے؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ مساجد کی تعمیر عبادت ،نماز ،ذکر تسبیح اور قرآن پاک کی تلاوت نیز قرآن پاک اور دینی علوم کی تعلیم وتعلم کے لیے ہوتی ہے اس لیے مسجد کو انہی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا ۔چنانچہ مسجد میں انگریزی تعلیم کا انتظام اور مستقل اسکول بنانا جائز نہیں ۔کیونکہ یہ مسجد کے بنیادی مقاصد سے متصادم ہے ۔

قال النبي صلى الله عليه و سلم: ( جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم وشراركم وبيعكم وخصوماتكم ورفع أصواتكم وإقامة حدودكم وسل سيوفكم . واتخذوا على أبوابها المطاهر . وجمروها في الجمع )(سنن ابن ماجہ  باب مایکرہ فی المساجد ص55 ح750)

ویحرم ادخال صبیان ،ومجانین  حیث غلب تنجیسھم والا فیکرہ ۔(ردالمحتار مطلب فی احکام المسجد ج1ص656)

 أَمَّا لِلتَّذْكِيرِ أو لِلتَّدْرِيسِ فَلَا لِأَنَّهُ ما بنى له وَإِنْ جَازَ فيه ۔۔۔ وَيَجُوزُ الدَّرْسُ في الْمَسْجِدِ وَإِنْ كان فيه اسْتِعْمَالُ اللُّبُودِ وَالْبَوَارِي الْمُسَبَّلَةِ لِأَجْلِ الْمَسْجِدِ ۔(البحرالرئق ج5 ص270)


فتویٰ نمبر : 4552/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں