بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نامحرم عورتوں کی آواز سننا


سوال

عورت کی آواز میں تلاوت اور نعتیں سننے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟کیا سننے والا اور شئیر کرنے والا گناہ گار ہوگا؟

جواب

 نا محرم عورت کی آواز کے ستر ہونے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے مگر صحیح قول یہ ہے کہ عورت کی آواز مطلقا ستر نہیں تاہم جہاں عورت کی آوازمیں ترنم ہو جس کی وجہ سے   فتنہ وفساد پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں عورت کی آواز کا سننا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ عورتیں ترنم کے ساتھ تلاوت ،نعت اور نظمیں وغیرہ پڑھتی ہیں اس لیے اس کے سننے سے فتنہ و فساد کا قوی اندیشہ ہوتا ہے اس لیے اس کا سننا اور آگے اس کو شئیر کرنا جائز نہیں اس سے بچنا ضروری ہے ۔

وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير ، وكذا في الإمداد ؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسي : ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع : ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها ، لأن ذلك ليس بصحيح ، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ، ولا نجيز لهنرفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة .ا هـ .قلت : ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة۔(رد المحتار على الدر المختار ،مطلب في ستر العورةج1ص 406)

حكم صوت المرأة :وقع الخلاف في صوت المرأة ،أنه من العورة فلا يجوز أن تتكلم بحيث يسمعها الأجانب ،أو ليس بعورة فيرخص لها في التكلم ،والحق الحقيق عند أرباب التحقيق ، وهو أن صوت المرأة ليس بعورةفي نفسه إلا أنه قد يكون سببا للفتنة ،فكان من لاقسم الثاني من سد الذرائع ،فدارحكمه على الفتنة وعدمها فحيث خيفت الفتنة حرام إبدائه وحيث لا ،فلا ،كيف وقد حرم الله سبحانه و تعالى إظهار صوت الخلخال وأمثاله فقال:ولا يضربن بأرجلهن ،لمظنةالفتنة فكيف يجوز إظهار صوت نفسها مطلقا۔(أحكام القران ج 3ص482) 


فتویٰ نمبر : 4572/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں