بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بغیر انتقال والی زمین کو فروخت کرکے کمائی کا حکم


سوال

میں مسمی (عمر علی) نے 8750000پر ایک زمین خریدی زمین خریدنے کے بعد میں نے 66 لاکھ روپے چند قسطوں میں پہنچائے اور زمین کے مالکان نے مجھے قبضہ بھی دیا ،جبکہ بقیہ رقم(2150000) کی ادائیگی انتقال میں تاخیر کی وجہ سے ابھی نہیں دیئے تھے انتقال نہ ہو نےکی بنا پر میں نے جرگہ کو فیصلہ کے لیے مقرر کیا ۔جرگہ نے زمین فروخت کرنے والوں میں سے ایک شخص کواس کی مرضی سے دے دی اور مجھے 80 لاکھ روہے دلوادئے۔اب سوال یہ ہے کہ مجھے جو 14 لاکھ روپے زیادہ ملے ہیں شرعا یہ میرے لئے حلال ہیں یا نہیں؟

جواب

جب بائع اورمشتری  باہمی رضامندی سے  کسی چیز  کی بیع طے کرلیں اور طرفین سے ایجاب وقبول ہو جائےتو بیع تام ہو جاتی ہے اس کے بعد مشتری کے ذمے  ثمن ادا کرنا لازم  ہوتا ہے اور بائع کے ذمے  مبیع  حوالہ  کرنا ۔انعقاد بیع کے بعد انتقال ملک  کے  قانونی  تقاضے پورے کرنا  بہتر ضرور ہے  لیکن شرعا ثبوت ملک  اس پر موقوف نہیں ۔

                 لہذا صورت مسؤلہ میں  اگر مشتری نے واقعتا 8750000کے عوض   زمین خریدی ہو اور 66لاکھ روپے  ادا کرکے زمین کا قبضہ لے لیا ہو  تو ایسی صورت  میں شرعا اس زمین کی بیع  تام ہوئی تھی ۔اور مشتری کے ذمے بقیہ رقم کی ادائیگی اور فروخت کرنے  والوں کے ذمے  انتقال کرنا لازم تھا  تاہم جب کاغذی انتقال مقررہ مدت میں نہ ہو سکا  اور جرگہ کے فیصلے کے مطابق وہ زمین  انہی فروخت کرنے  والوں میں سے  ایک نے سائل سے خرید لی  اور اس کو 80 لاکھ ادا کیا   تو چونکہ یہ ایک مستقل  علیحدہ بیع   ہوگئی  اس لیے اس میں  سائل کو   مبلغ 14 لاکھ  روپے  کا جو نفع حاصل ہوا وہ اس کیلئے حلال ہے ۔

واذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهماإلا من عيب أو عدم رؤية ۔(الهداية،كتاب البيوع،ج3ص20)

وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا۔(الفتاوى الهندية،كتاب البيوع،الباب الاول في تعريف البيع۔۔۔ج3ص6)

(البيع) ھو مبادلۃ المال بالمال بالتراضی ۔(البحر الرائق ،کتاب البیع ج5ص430)


فتویٰ نمبر : 2779/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں