بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

نکاح سے قبل"ہرعورت میرے لیے بہن ہے"کہنے کاحکم


سوال

زید نے کہاکہ جب تک زینب کانکاح دوسرے شخص سے نہ ہوجائے اس وقت تک میرے لیے ہرعورت بہن ہے اب سوال یہ ہے کہ صورت مسئولہ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے یا اس سے ظہار ثابت ہوگا شرعی حل بتاکرممنون فرمائیں۔

جواب

شریعت کی روسے جس شخص کے نکاح میں کوئی عورت نہ ہو اگر وہ طلاق یا ظہار کے الفاظ کہتا ہے تو اس سے نہ طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ ہی ظہار ہوتا ہے البتہ اگر نکاح کی طرف نسبت کرکے طلاق کو معلق کردے تو وہ تعلیق درست شمار ہوگی ۔ 

صورت مسؤلہ میں یہ الفاظ کہ "جب تک زینب کا نکاح دوسرے شخص سے  نہ ہوجائے اس وقت تک میرے لیے ہر عورت بہن ہے"کہنے سے ظہارنہیں ہوتا اور نہ ہی طلاق واقع ہوگی   کیونکہ زید نے ابھی تک نکاح نہیں کیا  اور نہ ہی اس جملے میں اپنے نکاح کی طرف کوئی نسبت کی ہے ۔

وَلَا تَصِحُّ إضَافَةُ الطَّلَاقِ إلَّا أَنْ يَكُونَ الْحَالِفُ مَالِكًا أو يُضِيفَهُ إلَى مِلْكٍ وَالْإِضَافَةُ إلَى سَبَبِ الْمِلْكِ كَالتَّزَوُّجِ كَالْإِضَافَةِ إلَى الْمِلْكِ فَإِنْ قال لِأَجْنَبِيَّةٍ إنْ دَخَلْتُ الدَّارَ فَأَنْت طَالِقٌ ثُمَّ نَكَحَهَا فَدَخَلَتْ الدَّارَ لم تَطْلُقْ كَذَا في الْكَافِي(الفتاوی الهندية ج1ص420)


فتویٰ نمبر : 6208/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں