بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

سرپرست کے بغیر مدرسہ میں بالغ یا نابالغ بچے کو داخلہ دینا


سوال

مہتمم بالغ یا نابالغ طالب علم کو سرپرست کےبغیر داخلہ دے سکتاہےیا نہیں؟

جواب

مدرسے میں طالب علم کو (بالغ ہو یا نا بالغ)داخلہ دینا انتظامی امور میں سے ہے۔جس میں شریعت نے کسی مخصوص شرائط وقواعدکی پابندی لازمی قرار نہیں دی ہے۔تاہم اگر مصلحت کی خاطرمدرسہ میں داخلہ کےلیے  کچھ جائز شرائط وضوابط لگائی گئی ہوں تو ان ضوابط پر  عمل پیرا ہونا چاہیے۔

صورت  مسئولہ میں کسی مخصوص مدرسہ میں داخلہ لینا ایک امرِ مباح ہے۔لہذا اگر منتظمین کی طرف سے داخلہ کےلیے یہ شرط ہو کہ داخلہ تب ملے گا جب طالب علم کا سرپرست حاضر ہو تو ایسی صورت میں اس شرط کا لحاظ رکھنا چاہیے۔لیکن جہاں داخلہ اس شرط کے ساتھ مشروط نہ ہو وہاں پر بلا سرپرست داخلہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔

 المسلمون علی شروطھم الا شرط حرم حلالا او شرط احل حراما۔(السنن الصغری للبھیقی، ج3 ص346)

المباح ھو ما خیر الشارع المکلف بین فعلہ وترکہ،ولا مدح ولا ذم علی الفعل والترک۔(الوجیز فی  اصول الفقہ،ص38) 


فتویٰ نمبر : 4541/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں