بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

جہیز کا اعتبار کر کے بیٹوں کو زیادہ حصہ دینا


سوال

لڑکیوں کی شادی کرانے کے ساتھ جو مروجہ جہیز دیا جاتا ہے تو کیا اس جہیز کا اعتبار کر کے لڑکوں کو جائیداد یا زیور کی تقسیم میں زیادہ حصہ دیا جا سکتا ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص  اپنی زندگی  میں بلا عوض کسی کو کوئی چیز تملیکاًدےدے تو یہ ہبہ اور عطیہ کہلاتا ہے ۔صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر کوئی شخص بیٹیوں کی شادی میں جہیز پر مال خرچ کرے جبکہ  اس کے مقابل بیٹوں کی شادی میں کوئی رقم خرچ نہ کی ہو تو مال تقسیم کرتے وقت جہیز پر خرچ کی گئی رقم کا اعتبار کر کے لڑکوں کو زیادہ حصہ دے سکتا ہے،  لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اولاد میں برابری کیساتھ تقسیم کی جائے بلا کسی معقول وجہ کے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دیا جائے۔

رجل لہ ابن وبنت اراد ان یہب لھما شیا فاالافضل ان یجعل للذکر مثل حظ الانثیین عند محمد وعند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی بینھما سواءھو المختار لورود الآثار۔ولو وھب جمیع مالہ لابنہ جاز فی القضاءوھوآثم نص عن محمد رحمہ اللہ تعالی فی العیون،ولو اعطی بعض ولدہ شیادون البعض لزیادۃ رشدہ لاباس بہ وان کان سواء لاینبغی ان یفضل ،ولو کان ولدہ فاسقاًفاراد ان یصرف  مالہ الی وجوہ الخیرویحرمہ عن المیراث ھذا خیر من ترکہ لان فیہ اعانۃ علی المعصیہ،ولو کان ولدہ فاسقاًلایعطی لہ اکثر من قوتہ۔(خلاصۃ الفتاوی،جنس آخر فی الھبۃ من الصغیر،ج4،ص400)

 


فتویٰ نمبر : 4527/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں