بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں اولاد کے درمیان کمی وزیادتی کیساتھ زیورات کی تقسیم


سوال

اگر کوئی عورت اپنی زندگی ہی میں اپنا زیور اپنی اولاد کے مابین کمی وزیادتی کیساتھ تقسیم کرے یعنی کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دے تو یہ جائز ہے کہ نہیں ؟ اور عورت ایسی تقسیم پر گناہ گار ہوگی یا نہیں ؟َ

جواب

اپنی زندگی میں اپنا مال یا جائیداد  اولاد میں تقسیم کرنا ہبہ کہلاتا ہے ہبہ  میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ تمام اولاد میں تقسیم برابری کیساتھ کی جائے بلا معقول وجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دیا جائے البتہ اگر کسی اولاد کے زیادہ نیک ، صالح اور باادب ہونے کی وجہ سےیا کسی کے معذور ہونے کی وجہ سے  اس کو زیادہ حصہ دے دیا جائے تو اس کی اجازت ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر عورت نے  زندگی میں اپنا زیور اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کردیا ہو اور بلا کسی شرعی وجہ کے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ حصہ دیا ہو تو اس سے وہ عورت گناہ گار ہوگی  البتہ اگر کسی اولاد کے زیادہ نیک ، صالح اور باادب ہونے کی وجہ سےیا زیادہ مستحق   ہونے کی وجہ سے اس کو زیادہ حصہ دیا ہو تو اس کی شریعت نے اجازت دی ہے ۔

ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم۔(الدرا لمختار ،ج5،ص696)

لاباس بان یعطی من اولادہ من کان متادباً(فتاوی تاتارخانیہ،ج3،ص462)


فتویٰ نمبر : 4526/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں