بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

ایصال ثواب کی خاطر ختم قرآن پر اجرت لینا


سوال

ایصال ثواب کیلئے ختم قرآن پر اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قرآن  کریم کی تلاوت کرکے کسی کو ایصال ثواب کے طور پر بخشناجائز ہے لیکن تلاوت قرآن کے بدلے باقاعدہ اجرت کے طور پر رقم لینا جائز  نہیں ۔تاہم  اگر  کسی جگہ  اجرت کی بجائے محض اکرام اور ھدیہ کے طور پر ایصال ثواب کی خاطر  تلاوت  کرنے والوں  کوکچھ رقم  دی جائے تو شرعا اس کے قبول کرنے کی گنجائش ہے  ۔

                صورت مسؤلہ میں اگر   تلاوت کرنے  والے اجرت کی غرض سے  ایصال ثواب  کرتے ہوں تو شرعا  ایسی صورت میں  ان کیلئے  رقم  لینا  ناجائز ہے ،اور نہ  ہی اس تلاوت پر کوئی ثواب مرتب ہوتا ہے  جس کا ایصال ثواب ہو  سکے ۔ 

 ولا يصح الاستئجار على القراءة وإهدائها إلى الميت لأنه لم ينقل عن أحد من الأئمة الإذن في ذلك ۔۔۔فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال فإذا لم يكن للقارىء ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر۔  (ردالمحتار،کتاب الإجارة، مطلب في تحرير مهم في عدم جواز الاستيجار  على التلاوةج9ص77)

(وقال الشعبي لا يشترط المعلم إلا أن يعطى شيئا فليقبله)۔۔۔وقول الشعبي هذا يدل على أن أخذ الأجر بالاشتراط لا يجوز فإن اعطى من غير شرط فإنه يجوز أخذه لأنه إما هبة أو صدقة وليس بأجرة وأصحابنا الحنفية قائلون بهذا۔(عمدة القاري،باب مايعطى في الرقية على أحياء العرب بفاتحة الكتاب،ج12 ص97)


فتویٰ نمبر : 2775/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں