بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

سال کے آخر میں مدرسہ سے فارغ ہونے والےمدرس کی شعبان اور رمضان کی تنخواہ


سوال

شعبہ کتب کا ایک مدرس جس نے سال بھر کسی مدرسہ میں پڑھایا ہو،شعبان سے پہلے مدرسے والے اس کو کسی معقول وجہ پر نکال دیتے ہیں یا بلا معقول وجہ کے یا وہ مدرس خود ہی مدرسہ چھوڑ دے، خواہ کسی عذر کی وجہ سے یا بلا عذر کے،تو آیا یہ مدرس شعبان اور رمضان کی تنخواہ کا حقدار ہوگا یا نہیں؟

جواب

عام طورپر مدارس دینیہ میں مہتمم اور مدرس کے مابین طے ہونےوالاعقد عقدمسانہہ ہوتاہے یعنی سال  بھر کے لیے تدریس کا عقد طے پاتا ہے چنانچہ کسی عاقد کو بلاعذرِشرعی سال پوراہونے سے قبل عقد فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔البتہ اگرمدرس کسی ایسی کوتاہی کامرتکب ہوجس کی وجہ سے مہتمم کےلیے عقد فسخ کرنا ناگزیرہوتو اسے عقدفسخ کرنے کااختیارہوتاہے،اسی طرح اگر خود مدرس کسی مجبوری کی بنا پر عقد برقرارنہ رکھ سکے تو وہ بھی عقد فسخ کرسکتاہے۔ان دونوں صورتوں میں عقد فسخ ہونے کےبعد مدرس صرف گزرے ہوئے ایام کی تنخواہ کا مستحق ہوتاہے،پورے سال کی تنخواہ کا مستحق نہیں ہوتا۔تاہم اگر مدرس میں کوئی کوتاہی نہ ہوتو پھر سال کے درمیان میں اس کو فارغ کرنا  جائز نہیں اور وہ بقیہ مہینوں کی تنخواہ کا مستحق بنتاہے۔

إذَا اسْتَأْجَرَ أُسْتَاذًا لِيُعَلِّمَهُ هذا الْعَمَلَ في هذه السَّنَةِ فَمَضَى نِصْفُ السَّنَةِ فلم يُعَلِّمْهُ شيئا فَلِلْمُسْتَأْجِرِ أَنْ يَفْسَخَ.....لو آجَرَ نَفْسَهُ في عَمَلٍ أو صِنَاعَةٍ ثُمَّ بَدَا له أَنْ يَتْرُكَ الْعَمَلَ لم يَكُنْ له ذلك وَإِنْ كان ذلك الْعَمَلُ ليس من عَمَلِهِ وهو مِمَّا يُعَابُ بِهِ كان له الْفَسْخُ.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب التاسع عشر في فَسْخِ الْإِجَارَةِ بِالْعُذْرِ ...ج4ص499)

الإجارة بعد ما انعقدت صحيحة لا يسوغ للآجر فسخها.(دررالحكام،كتاب الإجارة المادة:441ج2ص480)

 


فتویٰ نمبر : 2776/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں