بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

میت کو غسل دیتے وقت ذکرکرنا


سوال

میت کو غسل دیتے وقت اس کے اردگرد لوگ ذکر کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

میت کو غسل دیتےوقت اس کے قرب وجوار میں ذکرکرنا جائز ہے ۔تاہم میت کو غسل دیتے وقت اس کے قریب بلند آواز سے قرآن پاک کی تلاوت کرناکراہت سے خالی نہیں کیونکہ غسل کی جگہ میں نجاست وغیرہ کااحتمال ہوتا ہےاور ایسی جگہ تلاوت کرناقرآن پاک  کی عظمت و احترام کے خلاف ہے۔

 تكره القراءة عنده حتى يغسل وعلله الشرنبلالي في أمداد الفتاح تنزيها للقرآن عن نجاسة الميت لتنجسه بالموت. وقال ابن عابدين:وتكره قراءة القرآن في موضع النجاسة كالمغتسل والمخرج والمسلخ وما أشبه ذلك وأما في الحمام فإن لم يكن فيه أحد مكشوف العورة وكان الحمام طاهرا لا بأس بأن يرفع صوته بالقراءة، وإن لم يكن كذلك فإن قرأ في نفسه ولا يرفع صوته فلا بأس به، ولا بأس بالتسبيح والتهليل وإن رفع صوته(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة، باب صلاةالجنازة،مطلب فى القراءة عند الميت ج3ص85،84)

ويستحب أن لا يتكلم بكلام مطلقا أما كلام الناس فلكراهته حال الكشف وأما الدعاء فلأنه في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال.(الدرالمختار،كتاب الطهارة،مطلب سنن الغسل،ج1ص291) 


فتویٰ نمبر : 8743/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں