بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

دادی کا دودھ پینے والی لڑکی کا چچا زاد سے نکاح


سوال

ہم چار بھائی اور چار بہنیں ایک ماں باپ کی اولاد سے ہیں ، ہم دو بھائیوں کی شادی ایک ساتھ ہوئی اور ہمیں اللہ نے اولاد سے نوازا ، ہمارے بچے اکثر اپنی دادی کے پاس ہی ہوتے تھے ، میری بھتیجی تھوڑی کمزور تھی اور اکثر رویا کرتی تھی ، اس بچی کو چپ کرانے کے لئے بچی کی دادی اپنے پستان اس کے منہ میں دے دیتی جس کی وجہ سے وہ خاموش ہو جاتی ، کچھ عرصہ بعد دادی کو یہ محسوس ہوا کہ اس کے پستان سے سفید گھاڑا مواد نکل آیا ہے تو ہماری والدہ نے بھابی کو بلا کر دکھا یا تو دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ گھاڑا دودھ ہے اور بچی منہ میں پستان لے کر جو خاموش ہوجاتی اور سو جاتی تھی اس میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہماری اس بھتیجی نے ہماری والدہ کا دودھ پیا ہے اس کے بعد ہماری والدہ نے پوتی کو دودھ دینا بند کر دیا، یہ سارا واقعہ ہماری بھتیجی کی پیدائش کے چھ ماہ کے اندر ہی ہوا ہے۔ میری بھتیجی کا ہماری والدہ کا دودھ پینے سے چند سوالات کے جواب مطلوب ہیں:

(1)کیا میری بھتیجی (جس نے ہماری والدہ کا دودھ پیا ہے) کا رشتہ میرے پہلے بیٹے سے (جس کی پیدائش میری بھتیجی سے پہلے ہوئی تھی)ہو سکتا ہے یا نہیں؟

(2)کیا میری بھتیجی (جس نے ہماری والدہ کا دودھ پیا ہے) کا رشتہ میرے دوسرے بیٹے سے (جس کی پیدائش میری بھتیجی سے بعد میں ہوئی تھی) ہو سکتا ہے یا نہیں؟

(3)کیا میری بھتیجی (جس نے ہماری والدہ کا دودھ پیا ہے) کے دو اور بھائیوں (جنہوں نے ہماری والدہ کا دودھ نہیں پیا) کے رشتے ہمارے ساتھ بہن بھائیوں کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ طے ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

 جب کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو یہ خاتون اس بچے کی رضاعی ماں   اور اس کی تمام اولاد اس بچے کے رضاعی بھائی  بہن بن جاتے ہیں لہذا اس بچے کا  اپنی رضاعی ماں  کے اصول و فروع سے نکاح جائز نہیں البتہ یہ حکم صرف اس بچہ کے ساتھ خاص ہے جس نے دودھ پیا ہو چنانچہ اس بچے کے بقیہ بھائیوں یا بہنوں کا  نکاح   اس عورت کے اصول و فروع سے جائز ہوگا بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعتاً یہ بات یقینی ہو کہ سائل کی بھتیجی نے سائل کی والدہ (یعنی اپنی دادی ) کا دودھ پیا تھا تو ایسی صورت میں  سائل کی یہ بھتیجی  سائل اور سائل کے دوسرے بہن بھائیوں کی رضاعی بہن ہوگئی ہے  لہذا:

(1،2) سائل کی بھتیجی (جو کہ سائل کی رضاعی بہن بھی ہے) کا رشتہ سائل کے سب بیٹوں  سے جائز نہیں ۔

(3) سائل کی بھتیجی (جو کہ سائل کی رضاعی بہن بھی ہے ) کے  دیگر بہن بھائیوں کا رشتہ اپنے چچاؤں اور پھوپھیوں کی اولاد میں سے کسی سے بھی کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔

أن كل اثنين اجتمعا على ثدي واحد صارا أخوين أو أختين أو أخا وأختا من الرضاعة فلا يجوز لأحدهما أن يتزوج بالآخر ولا بولده كما في النسب ۔۔۔۔  وأخوات المرضعة يحرمن على المرضع لأنهن خالاته من الرضاعة وأخواتها (وإخوتها) أخوال المرضع فيحرم عليهم كما في النسب فأما بنات أخوة المرضعة وأخواتها فلا يحرمن على المرضع لأنهن بنات أخواله وخالاته من الرضاعة وإنهن لا يحرمن من النسب فكذا من الرضاعة وتحرم المرضعة على أبناء المرضع وأبناء أبنائه وإن سفلوا كما في النسب۔  (بدائع الصنائع،كتاب الرضاع، ج4،ص2)


فتویٰ نمبر : 6190/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں