بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

حرام چیز کے حلال کرنے کو شرط کے ساتھ معلق کرنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے غصہ میں ان الفاظ کے ساتھ قسم کھائی کہ "میں تم لوگوں سے تعلق نہیں رکھونگا اور اگر رکھا تو میری ماں میری بیوی ہوگی" دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان الفاظ کا کیا حکم ہے؟

جواب

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق   حرام چیز کے  حلال ہونے  یا حلال کے حرام ہونے کو کسی شرط کے ساتھ معلق  کرنا قسم کے زمرے میں داخل ہے  چاہے  قسم کے الفاظ پر تکلم  کیا ہو یا نہ کیا ہو چنانچہ  حانث ہونے کی صورت میں  قسم کا کفارہ لازم  ہوگا۔

         صورت مسئولہ میں   مذکورہ الفاظ "میں  تم لوگوں سے تعلق نہیں رکھونگا اور اگر رکھا تو میری ماں میری بیوی ہوگی" میں   حرام رشتہ کو  ذکر کردہ شرط  کے واقع ہونے کی صورت میں  حلال بنایا گیا  ہے یہ  شرعا یمین (قسم)کے حکم میں داخل ہے   لہذا جن سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھائی ہے اگر ان سے تعلق رکھے گا تو  قسم کا کفارہ ادا کرے گا۔

فكل ما حرم مؤبدا فاستحلاله معلقا بالشرط يكون يمينا وما لا فلا۔ (رد المحتار،كتاب الأيمان،ج3،ص721)


فتویٰ نمبر : 4536/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں