بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

عمارت کے بالائی حصہ میں دکانوں کی خرید و فروخت


سوال

زید نے ایک زمین خریدی اور اس پر عمارت تعمیر کرنا چاہتا ہے ، عمارت کا نقشہ موجود ہے جو کہ تہہ خانہ اور بالائی منزلوں میں دکانوں پر مشتمل ہے ، تہہ خانہ والی دکانیں تو زمین پر ہیں اور باقی معلق ہیں ، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیابالائی منزل کی دکانوں کی خرید وفروخت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

(1) شریعت مطہرہ کی رو سے کسی معدوم  چیز کی بیع ممنوع ہے تاہم عقد استصناع جائز ہے ، اس کے جواز کے لئے معقود علیہ(مبیع)  کی جنس ، نوع ، صفت ، مقدار کا معلوم ہونا اور اس  پر لوگوں کا تعامل ہونا شرط ہے  لہذا صورت مسئولہ میں  قبل از تعمیر یا زیر تعمیر بلڈنگ میں نقشہ دیکھ کر  دوکان/ فلیٹ   کی بکنگ کرنا چاہے وہ دکانیں تہہ خانہ میں ہوں یا بالائی منزلوں میں  ہوں،عقد استصناع  کے طور پر جائز ہے  اور یہ ضروری ہے کہ بکنگ  کرتے وقت  دکان/ فلیٹ کی تعیین  اس طور پر کی جائے کہ کسی قسم کی جہالت باقی نہ رہے اور بعد میں کسی قسم کے تنازع کا سبب نہ بنے۔

 (2) دکان بک کروانا شرعا عقد استصناع ہے اور عقد استصناع میں جب تک وہ  چیز مستصنع(آرڈر دینے والے) کے  قبضہ میں نہ آجائے  اس میں اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی اس لئے  قبضہ سے پہلے وہ چیز فروخت کرنا شرعا جائز نہیں لہذا جب تک دکان/ فلیٹ بنانے والا (بلڈر)  دکان / فلیٹ بک کرانے والے کے قبضہ میں نہ دے دےاس وقت تک بک کرانے والے کے لئے  دکان/فلیٹ کو آگے بیچنا  جائز نہیں۔ چاہے اس کی قیمت مکمل ادا کر چکا ہو یا کچھ رقم باقی ہو۔

هو (اي الإستصناع) عقد على مبيع في الذمة شرط فيه العمل۔  (بدائع الصنائع ، فصل واما جوازه ، ج5 ، ص2)

وفي البدائع من شروطه بيان جنس المصنوع ونوعه وقدره وصفته وأن يكون مما فيه تعامل (رد المحتار ، مطلب فى الاستصناع ، ج5 ، ص223)

تنبيه لو كان العلو لصاحب السفل فقال بعتك علو هذا السفل بكذا صح۔  (رد المحتار، مطلب فى تعريف المال، ج5، ص52)

حكم الاستصناع فهو ثبوت الملك للمستصنع في العين المبيعة في الذمة وثبوت الملك للصانع في الثمن ملكا غير لازم۔  (بدائع الصنائع، فصل و اماصفة الاستصناع ، ج5 ، ص3)


فتویٰ نمبر : 2774/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں