بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

پلاٹ میں شریک شخص کاصدقہ فطر اور زکوٰۃ لینا


سوال

 ایک آدمی کے انتقال کے بعدورثا کومیراث میں ایک پلاٹ ملا ،جس کی قیمت تقریبا چالیس لاکھ (40,00000)روپےہے اب مسئلہ یہ ہے کہ اس مرحوم کا ایک   بیٹا ہےجو کسی مسجد کا امام ہے،کیا وہ امام صاحب صدقہ فطر اور زکوٰۃ لےسکتاہےجب کہ اس پلاٹ کے علاوہ گھر کی آمدنی بھی کم  ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جوشخص نصابِ زکوۃکے بقدر کسی قسم مال کامالک ہوتو شرعاً یہ زکوۃاور دیگر صدقات لینےکامستحق نہیں۔صورتِ مسئولہ میں اگر  اس پلاٹ پر امام صاحب کی ملکیت اور قبضہ دونوں ثابت ہوں اور  اس کے حصہ زمین کی قیمت ساڑھے باون تولےچاندی کی قیمت کے برابریا زائد ہوتواس کےلیے صدقہ فطراور زکوٰۃ لینا جائزنہیں۔لیکن اگر اس پر اس کی ملکیت یاقبضہ نہ ہویا اس کےحصہ زمین کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت تک نہ پہنچتی ہواور اس کے علاوہ بھی صاحب نصاب نہ ہوتواس کےلیےزکوٰۃوصدقہ فطروغیرہ لیناجائزہے۔

( و ) لا إلى ( غني ) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان كمن له نصاب سائمة لا تساوي مائتي درهم.( الدرالمختار مع ردالمختار،كتاب الزكاة،باب المصرف،ج3ص296)

وَيَجُوزُ دَفْعُهَا إلَى من يَمْلِكُ أَقَلَّ من النِّصَابِ وَإِنْ كان صَحِيحًا مُكْتَسِبًا(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب السابع فى المصارف،ج1ص189)

(صدقة الفطر كالزكوة فى المصارف)وفي كل حال.(الفتاوى الهندية،باب صدقة الفطر،ج1ص194)


فتویٰ نمبر : 8749/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں