بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

پرو موشن فيس لينے كی شرعی حیثیت


سوال

سکولوں میں پروموشن فیس لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے کسی عین یا محنت کا عوض لینا جائز ہے لیکن جہاں نہ عین ہواور نہ منفعت تو وہاں بلا کسی وجہ کے عوض لینا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اسکولوں میں رائج پروموشن فیس یعنی کسی طالب علم کی ایک کلاس سے دوسری کلاس کو ترقی پر فیس لینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کیونکہ  جب  کوئی طالب علم  کسی جماعت کا امتحان پاس کرے تو اگلے کلاس میں اس کو ترقی دینا اس کا حق بنتا ہے کہ اسے اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے جب یہ اس کا حق ہے تو پھر اس پر طالب علم سے ترقی کے عوض  فیس لینا کوئی معنی نہیں رکھتا لہذا پروموشن فیس نہ کسی عین کا عوض ہے اور نہ کسی خدمت پر اجرت ۔لہذا پروموشن فیس لینا جائز نہیں ۔

قال اللہ تعالی:إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمٰنٰتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا۔(النساء:58)

الاجارة على نوعان نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي والدواب والثياب وما أشبه ذلك ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الاجارة الباب الاول في بيان تفسيرالاجارةو ركنهاج 4 ص411)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذمال أحد بغير سبب شرعي ۔(البحرالرائق فصل في التعزير ج 5 ص44)


فتویٰ نمبر : 4557/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں