بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

حفاظت کی خاطر قبرستان کی بھرائی کرنا


سوال

ہمارے محلے کیلئے مختص قبرستان قریبی تعمیرات اور آبادی کی وجہ سے نشیب میں واقع ہے اور زیر آب رہتاہے "باونڈری وال "کی تعمیر سے کم بارش کی صورت میں باہر سے پانی تو نہیں آرہا لیکن زیادہ بارش کی صورت میں پانی جمع ہونے کا خدشہ برقرار ہے ،اب سوال یہ ہے کہ (1) کیا ہم قبور کے زیر آب اور بے حرمتی کے خدشہ سے قبرستان کی بھرائی کر سکتے ہیں ؟ اگر بھرائی جائز ہو تو بھرائی جو کہ ڈھائی ،تین فٹ ہوگی کے اوپر نئی قبریں بن سکتی ہیں ؟(2)بعض احباب کی رائے یہ ہے کہ بھرائی کے بعد نیچے قبروں کے دیواریں اونچی کر کے قبر کا نیا ڈھانچہ بنایا جائے ،کیا یہ جائز ہے ؟اگر نہ اس کے اوپر نئی قبریں بن سکتی ہوں اور نہ نیچے قبروں کا اونچا کرنا ٹھیک ہو تو پھر اس زمین کا مصرف اور استعمال کن امور میں جائز ہو سکتا ہے ؟

جواب

 قبرستان میں  مدفون اموات کو  بے حرمتی سے  بچانے کیلئے  قبرستان کی دیکھ بال ضروری ہے.اسی  احترام  کی خاطر احادیث مبارکہ میں  قبروں کے اوپر   بیٹھنے   سے منع کیا گیا ہے ،تاہم اگر   اموات کے اجسام غالب گمان کے مطابق خاک ہو چکے ہوں تو ایسی صورت میں  بوسیدہ قبروں کو ہموار کرکے  انکے اوپر نئی قبریں  بنائی جا سکتی ہے ۔

                صورت مسؤلہ میں اگر قبرستان  میں  موجود اموات  غالب گمان کے مطابق  خاک ہو چکے ہو ں  تو ایسی صورت میں  قبرستان کی بھرائی بھی جائز ہے  نیز بھرائی کےبعد ان میں نئے مردے بھی دفنائے جاسکتے ہیں ۔ تاہم اگر قبریں ایسی ہوں کہ غالب گمان کے مطابق ان کے اموات ابھی تک  خاک نہ ہو چکے ہوں گےتو پھر قبرستان  کے  تحفظ  اور اموات کے  احترام کی خاطر  اس کی بھرائی اگر چہ جائز ہے  لیکن  ان قبروں کے اوپر کوئی نشان (مثلا کتبہ وغیرہ) بطور علامت  لگایا جائے  تاکہ نیچے  قبروں کااحترام برقرار رہے ۔یاد رہے کہ ایسی صورت میں ان کے اوپر  نئے  مردوں کے دفنانے سے اجتناب کیا جائے  ۔

عن جابر، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر، وأن يقعد عليه، وأن يبنى عليه»(الصحيح لمسلم،كتاب الجنائز،فصل في النهي عن تجصيص القبر والبناء عليه ،ج2ص266)

عن مكحول قال بينا رسول الله صلى الله عليه و سلم جالس على قبر ابنه إذ رأى فرجة فقال للحفار ايتني بمدرة لأسدها أما أنها لا تضر ولا تنفع ولكن يقر بعين الحي ۔(مصنف عبد الرزاق،باب  حسن عمل القبر ،ج3ص508)

ويكره أن يبنى على القبر أو يقعد أو ينام عليه أو يوطأ عليه ۔۔۔وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها كذا في التتارخانية وهو الأصح وعليه الفتوى۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الجنائز ،الفصل السادس  فی القبر  والدفن والنقل ج1ص166)

ولو بلى الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه۔(ايضا،كتاب الصلوة،الفصل السابع في الشهيدج1ص167)


فتویٰ نمبر : 4534/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں