بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
قبرستان کی بھرائی اور اس کے لئے مردوں کے پسما ندگان سے رقم وصول کرنا
سوال
ہمارے قبرستان سے متصل پاکستان ایئر فورس کی طرف سے قبرستان کیلئے زمین خریدی گئی تھی اور اس زمین کا انتقال PAFکے خطیب مولانا صاحب مرحوم کے نام ہوا تھا اس قبرستان میں PAFاور مقامی آبادی کو تدفین کی اجازت تھی ،PAFوالوں نے "باونڈری وال" بھی تعمیر کیا تھا لیکن آبادی اور اطراف کی تعمیرات کی وجہ سے قبرستان گہرائی اور نشیب میں واقع ہوا ہے PAFوالے بھی عرصہ سے خیر خبر نہیں لے رہے ہیں قبروں کی بے حرمتی کی وجہ سے مولانا صاحب مرحوم کے بیٹے نے قبرستان کی بھرائی شروع کی ہے اور نیچے قبروں کی دیواروں کو اونچا کرکے اوپر پھر ڈھانچہ تعمیر کر رہے ہیں اور اس کا خرچہ صاحب قبر کے ورثا سے لے رہے ہیں،نیز اس میں PAF کے طرف سے تعمیر شدہ دیوار کے اینٹوں کو دیوار سے نکال کر قبروں میں استعمال کیا جارہا ہے ۔تو شرعا(1) پانی کی وجہ سے اور قبروں کی بے حرمتی کے خدشہ سے بھرائی جائز ہے ؟ نیزبھرائی کے بعد نیچے قبروں کی دیواریں اونچی کرکے نیا ڈھانچہ تعمیر کرنا جائز ہے؟(2)قبروں کے دیواروں میں PAFکے تعمیر کردہ دیوار کے اینٹوں کا استعمال جائز ہے ؟(3)ورثا سے قبروں کے از سر نو تعمیر اور نئے ڈھانچہ کیلئے رقم کا مطالبہ کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟(4) جن اصحاب قبور کے ورثامعلوم نہیں ان کے قبروں کے اوپر بھرائی کے بعد نئی قبریں بن سکتی ہیں ؟
جواب
شریعت مطہرہ کے رو سےجب کوئی زمین قبرستان کیلئے وقف کی جائے تو اس میں مردے دفنانے کے بعد وقف تام ہوجاتی ہے وقف تام ہونے کے بعد اس زمین میں مردے دفنانے کے علاوہ کسی کا ذاتی تصرف اور قبضہ جائز نہیں ۔تاہم شرعی حدود کے تحت قبرستان کیلئے موقوفہ زمین اورا س میں موجود قبروں کی حفاظت لازمی ہے ۔
صورت مسؤلہ میں :(1)اگر مردوں کے اجسام غالب گمان کے مطابق خاک ہو چکے ہوں تو پھر اس کی بھرائی اور اس میں نئے مردے دفنانا جائز ہے ۔لیکن اگر غالب گمان یہ ہو کہ ان کے اجسام مٹی نہیں ہو چکے ہوں گے تو پانی سے حفاظت اور مردوں کے احترام کی خاطر قبرستان کی بھرائی جائز ہے تاہم بھرائی کے بعد ان قبروں کے اوپر کوئی نشان لگایا جائے تاکہ نیچے قبروں کی بے حرمتی نہ ہو ۔بھرائی پر ہونے والا خرچہ باہمی اتفاق اور سمجھوتے سے جمع کیا جائے تو بہتر ہو گا ۔
(2)اگر PAF والوں نے یہ دیوار قبرستان کی زمین کی حفاظت کیلئے تعمیر کی ہو تاکہ قبرستان کی زمین پر کوئی قبضہ نہ کرے تو ایسی صورت میں یہ اینٹیں وہاں سے ہٹانا درست نہیں ۔لیکن اگر یہ اینٹیں قبرستان کے جملہ مصالح کیلئے وقف ہوں تو ان اینٹوں کو غیر بوسیدہ قبروں کیلئے علامت کے طور پراستعمال کیا جاسکتا ہے۔
(3)اگر ورثا اپنی رضامندی سے قبروں کی دیکھ بال کیلئے رقم دے دیں تو جائز ہے ورنہ ان کو رقم دینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔
(4) اگر کسی قبر والے کا کوئی وارث یا رشتہ دار نہ ہو ،یا ہو لیکن معلوم نہ ہو ،یا معلوم ہو لیکن اپنی رضامندی سے اس غرض کیلئے رقم نہ دیتا ہو تو ان تین صورتوں میں اگر غالب گمان یہ ہو کہ ان کے مردوں کے اجسام خاک ہو چکے ہوں گے تو ایسی قبروں کی جگہ پر نئی قبریں بنائی جا سکتی ہیں ۔لیکن اگر ان کے اجسام خاک نہ ہو چکے ہوں تو پھر ایسی قبروں کے اوپر نئی قبریں بنانے سے اجتناب ضروری ہےجب تک ان کے اجسام خاک نہ ہو چکے ہوں ۔
عند محمد اذااستسقی الناس من السقایۃ، وسکنواالخان والرباط ،ودفنوا فی المقبرۃ زال الملک۔(تبیین الحقائق،کتاب الوقف،فصل من بنی مسجدا،ج4ص274)
إن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء۔(رد المحتار،كتاب الوقف،مطلب شرائط الواقف معتبرة،ج6ص527)
سئل عن وقف انهدم ولم يكن له شيء يعمر منه ولا أمكن إجارته ولا تعميره هل تباع أنقاضه من حجر وطوب وخشب أجاب إذا كان الأمر كذلك صح بيعه بأمر الحاكم ۔۔۔والظاهر أن حكم عمارة أوقاف المسجد والحوض والبئر وأمثالها حكم الوقف على الفقراء(ايضا، مطلب في الوقف إذا خرب ولم يمكن عمارته ج6ص560)ـ
ويكره أن يبنى على القبر أو يقعد أو ينام عليه أو يوطأ عليه ۔۔۔وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها كذا في التتارخانية وهو الأصح وعليه الفتوى۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الجنائز ،الفصل السادس فی القبر والدفن والنقل ج1ص166)
ويكره أن يبنى على القبر مسجد أو غيره۔۔۔ ولو بلى الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه۔(ايضا،كتاب الصلوة،الفصل السابع في الشهيدج1ص167)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں