بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
والد کا اپنی زندگی میں بیٹوں کو جائیداد میں حصہ دے کر بیٹیوں کو محروم کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دادامرحوم (ملک شہباز خان )نے اپنی حیات میں اپنی اولاد نرینہ یعنی میرے والد (گل یوسف خان )اور میرے چچا (فیض محمد خان )کو اپنی جائیداد ہبہ کی تھی یعنی دونوں کو آدھا آدھا حصہ دیا تھا اور دونوں بیٹوں نے والد کی حیات میں اپنی اپنی جائیداد کو قبضہ میں لایا تھااس کے بعد میرے والد نے بھی مجھے اور میرے دو بھائیوں کے درمیان برابر برابرتقسیم کی تھی اور تینوں بھائیوں نے اپنے اپنے حصے کو قبضہ میں لیا تھا میرے دادا اور میرے والد صاحب دونوں نے اپنی زنانہ اولاد یعنی بیٹیوں کو محروم کیا تھا اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے دادا اور والد کی اس تقسیم سے ہم بھی گناہ گا رہوں گے یا نہیں نیز ان کی وفات کے بعد کیا میری پھوپھیوں یا بہنوں کا اب ہمارے ساتھ جائیداد میں شرعا ً کوئی حق بنتا ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ زندگی میں ہر شخص کو اپنی ذاتی مال و جائیداد میں ہر قسم کے جائز تصرفات کا اختیار حاصل ہے کسی بھی وارث یا اولاد کو یہ حق نہیں کہ وہ حالت حیات میں مال و جائیداد کا مطالبہ کریں ہا ں اگر کوئی شخص حالت حیات میں اپنی خوشی اور رضامندی سے مملوکہ مال اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو انصاف سے کام لیکر سب کو برابر حصہ دینا چاہیے کسی کو بلا عذر شرعی کم دینے یا محروم کرنے سے گناہ گار ہوگا اور یہ گناہ واہب تک محدود رہے گا موہوب لہ تک اس کا اثر نہیں پہنچتا اسی طرح موہوب لہ جب ہبہ کو قبول کرے اور اس پر قبضہ کرے تو ہبہ تام ہو کر موہوبہ چیز واہب کی ملکیت سے نکل کر موہوب لہ کی ملکیت میں داخل ہو جائے گی اور موہوب لہ کے لیے اس میں ہر قسم کے جائز تصرفات کا اختیار ہوگا ۔ صورت مسئولہ میں بشرط صدق و ثبوت اگر سائل کے والد اور دادا نے اپنی اولاد میں سے صرف نرینہ اولاد کو اپنی زندگی میں ہبہ کیا ہو اور انھوں نے قبضہ بھی کیا ہو تو یہ ان بیٹوں کی ملکیت ہوگی دیگر ورثا کا کوئی حق نہیں بنتا تاہم اس غیر منصفانہ تقسیم پر وہ گناہ گار ہوں گے ابھی اگر مذکر اولاد اپنی مرضی و اختیار سے ان مؤنث ورثا کو کچھ دیں تو بہتر ہوگا تاکہ ان کے حق میں مرحومین سے جو حق تلفی ہوئی ہے وہ اس کو دل سے معاف کردیں ۔
ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا ۔۔۔ عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى(الفتاوى الهندية ،الباب السادس في الهبة للصغير ج4ص391)
ولو وهب جميع ماله لابنه جاز في القضاء وهو آثم (خلاصة الفتاوى ج 4 ص 400)
ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا(الفتاوى الهندية كتاب الهبة الباب الثاني ج 4 ص377)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں