بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ٹوٹے کھلونو ں کوجوڑکریا ٹارچ میں سیل تبدیل کرکے بیچنا


سوال

کیافرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ زید کھلونے بیچنے کاکا م کرتاہے،بسااوقات اس کے پاس خریدے گئے مال میں ٹوٹے کھلونے بھی آجاتے ہیں ،وہ انہیں کسی ایلفی وغیرہ سے جوڑدیتاہے،اور پھرگاہگ کوبتلائے بغیر اسے دوسرے سالم کھلونوں کی قیمت پر بیچ دیتاہے۔ (2)اسی طرح لائٹ بیٹریوں(ٹارچ) میں بھی بعض دفعہ ایسی بیٹریاں آجاتی ہیں جن کاسیل ختم ہوا ہوتا ہے،وہ اس میں نیاسیل لگاکر اسےدوسری بیٹریوں کی قیمت پرفروخت کرتاہے۔اورگاہک کواس کی خبر نہیں دیتا۔کیا شرعاًزید کایہ عمل جائزہے؟

جواب

واضح رہے کہ ہروہ وصف جومارکیٹ میں کسی چیز کی قیمت میں کمی واقع کردے،یااس کی وجہ سے اس چیز کی  منفعت متاثر ہوجائے،یاعرف میں لوگوں کے ہاں وہ نقص سمجھا جاتاہو تو وہ عیب کہلاتاہے۔بائع کے لیے یہ جائزنہیں کہ وہ کوئی چیزفروخت کرتے وقت اس میں موجود عیب کومشتری (گاہک)سے چھپائے۔احادیث میں بڑی سختی کے ساتھ اس سے ممانعت وارد ہے۔ اگرکوئی شخص مبیع(فروخت کی جانے والی چیز) میں موجودعیب کوچھپاکراسے گاہک کوبیچ دے،توبعدمیں معلوم ہوجانے پرمشتری کوواپس کرنے کااختیارحاصل ہوگا۔

(1)صورت مسؤلہ میں چونکہ کھلونے کے ٹوٹ جانے سے عموما وہ عیب دار متصور ہوتے ہیں،اس لیے زید کے لیے یہ جائزنہیں کہ وہ اسے ایلفی سے جوڑنے کے بعد مشتری کواس کی خبر دئیے بغیر فروخت کردے،ایساکرنادھوکہ دہی کےزمرے میں آتاہے جس سے وہ سخت گنہگارہوگا۔ہاں!مشتری کو اس پرمطلع کرنےکےبعداگر وہ اسے لینے پرراضی ہوتو جتنی قیمت پردونوں متفق ہوجائیں اس پربیچناجائزہے۔

(2) اگر کسی بیٹری کا سیل ختم ہواہو اور دکاندار اس میں اصل معیار کا سیل لگادے اور عرف میں لوگوں کے ہاں یہ نقص اور عیب نہ سمجھا جاتا ہو تو پھر گاہک کو بتائے بغیر بھی بیچنا جائز ہے لیکن اگر کوئی بیٹری ایسی ہو جسے کھول کر سیل بدلنا لوگوں کے ہاں نقص سمجھا جاتا ہو یا اصل معیار سے کم معیار کا سیل لگا دیا جائے پھر اس کا حکم بھی یہی ہوگا کہ مشتری کو اس کی خبر دئے بغیر اسے بیچنا نا جائز ہوگا البتہ اگر مشتری کو اس کی اطلاع دے دے اور وہ اس پر راضی ہو تو پھر جتنی قیمت پر دونوں کا اتفاق آجائے اس پر بیچنا جائز ہے۔

 " عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس،من غش فليس مني"(صحیح مسلم،کتاب الإیمان، باب قول النبيﷺ:من غشنا فليس منا،ج1ص99)

"عن عقبة بن عامر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول:المسلم أخو المسلم . ولا يحل لمسلم باع من أخيه بيعا فيه عيب إلا بينه له"۔"وعن واثلة بن الأسقع قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :من باع عيبا لم يبينه لم يزل في مقت الله ولم تزل الملائكة تلعنه۔(سنن ابن ماجۃ، باب من باع عيبا فليبينه،ج2ص755)

"وكل ماأوجب نقصان الثمن في عادة التجار فهوعيب"وقال ابن الهمام : والعيب ماتخلوعنه أصل الفطرةالسليمة ممايعد به ناقصا"۔(الهداية مع فتح القدير،باب خيارالعيب ج6 ص4)

"والحاصل على مايظهرمن كلام الفقهاءأن المراد في كون العيب معتبرالخيارالرد هوالعرف فإن اعتبر العرف المبيع معيبا ثبت فيه خيارالرد" ۔(فقه البيوع،ج2ص834)


فتویٰ نمبر : 2771/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں