بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
دارالافتاء
تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں تقسیم میراث
سوال
: اکرم خان نامی شخص کے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں ، پہلا بیٹا گل بہار نومبر 1990 میں بوجہ دشمنی فوت ہوا پھرمارچ سن 2000 میں باپ اکرم خان فوت ہوئے ، اکرم خان کی وفات کے وقت اس کے تین بیٹے (شاکر اللہ ، گوہر اللہ ، ظاہراللہ)، پانچ بیٹیاں(خاصیت ، صوفیہ ، لیاقتہ ، فہیمہ ، اشرافیہ) اور مرحوم بیٹے گل بہار کا ایک بیٹا موجود ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اکرم خان کی میراث اس کے ورثاء میں کس حساب سے تقسیم ہوگی اور دادا کی میراث میں پوتے کا حق ہوگا یا نہیں؟
جواب
میــــــــــــــــــ (اکرم خان)ــ(11)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
شاکرا للہ گوہر اللہ ظاہر اللہ خاصیت صوفیہ لیاقتہ فہیمہ اشرافی
2 2 2 1 1 1 1 1
بشرط صدق و ثبوت اگر مرحوم کے مذ کورہ ورثاء کے علاوہ اور کوئی وارث ذوی الفروض یا عصبات میں سے زندہ موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ گیارہ(11) حصوں میں تقسیم کر کے بحیثیت عصوبت لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ قاعدے کے تحت تین بیٹوں (شاکر اللہ ، گوہر اللہ ، ظاہراللہ) میں سے ہر ایک کو 2/11 حصے اورپانچ بیٹیوں (خاصیت ، صوفیہ ، لیاقتہ ، فہیمہ ، اشرافیہ) میں سے ہر ایک کو 1/11 حصہ دیا جائے گا ۔ جو بیٹا (گل بہادر) اپنے والد کی زندگی میں وفات پا چکا تھا شرعا میراث میں اس کا کوئی حصہ نہیں بنتا ، نیز جب بیٹے موجود ہوں تو پوتوں یا پوتیوں کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔
قال الله تعالى:يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ۔ (النسآء ، الاية: 11)
فالأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن۔(الفتاوى الهندية ، الباب الثالث فى العصبات ، ج6، ص451)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں