بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

حرام مال کومسجد کے بیت الخلاؤں میں خرچ کرنا


سوال

اگرکسی شخص کے پاس حرام مال ہو توکیا وہ اسے مسجد کے بیت الخلاؤں میں صرف کرسکتاہے؟

جواب

کسی شخص کے پاس اگر حرام یاناجائزذریعے سے مال آگیا ہوتواس کاحکم یہ ہے  کہ اسے اصل مالک یااس کے ورثا کولوٹادےاوراگر اس کواصل مالک یااس کے ورثا تک پہنچانا ممکن نہ ہوتوپھراسےبغیر نیت ثواب کےفقراومساکین کوصدقہ کردے، کیونکہ جب یہ فقیر کی ملکیت میں آجائے تویدکی تبدیلی  سےفقرا کے لیے حلال ہوجائے گا۔فقرا کومالک بنائےبغیر کسی اور رفاہی کام  میں خرچ کرنے سے چونکہ تملیک متحقق نہیں ہوتی اس لیےیدنہیں بدلتا،اوریدنہ بدلنے کی وجہ سے بدستوریہ مال  حرام ہی رہتاہے۔لہٰذا فقراکوتملیک کیےبغیرکسی اور کام میں اسے صرف کرناجائزنہیں۔چاہے وہ مسجد کے بیت الخلاہیں  ہی کیوں نہ ہوں ۔ہاں البتہ کسی فقیر کودینے کے بعد اگروہ خوداپنی مرضی سے  مسجدکی تعمیریاکسی اور رفاہی کام میں خرچ کرنا چاہے توخرچ کرسکتاہے۔

"عن أنس رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بلحم تصدق به على بريرة، فقال: هوعليها صدقة، وهو لنا هدية" (صحیح البخاری،کتاب الزکوٰۃ،باب إذاتحولت الصدقة،ج1ص202)

وإذا مات الرجل وكسبه خبيث فالأولى لورثته أن يردوا المال إلى أربابه فإن لم يعرفواأربابه تصدقوا به"(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الخامس عشر،ج5ص349)

"لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذاتعذرالردعلى صاحبه".(ردالمحتار،الحظروالإباحة،فصل في البيع،ج9ص553)

"و اما اذا كان عند رجل مال خبيث فاما ان ملكه بعقد فاسد او حصل له بغير عقد و لايمكنه أن يرده إلى مالكه ويريدأن يدفع مظلمة عن نفسه فليس له حيلة الا أن يدفعه إلى الفقراء" (بذل المجهود،كتاب الطهارة ،باب فرض الوضوء،ج1ص37)

(لأن تبدل الملك أوجب تبدلًا في العين حكمًا) بدليل قصة بريرة رضي الله عنها ۔۔۔۔ قال عليه السلام: هي لك صدقة، ولناهديۃ"فثبت بهذا أن تبدل الملك يوجب تبدل العين حكمًا، وهذا لأن تبدل الملك صفة له، وتتبدل الصفة بتبدل العين شرعًا، وإن كانت العين واحدة في أصلها.  (الکافي شرح البزدوي،باب في موجب الأمرفي معنى العموم،ج1ص438)


فتویٰ نمبر : 4529/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں