بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 28/10/2026 |
دارالافتاء
شفعہ کے لیے قاضی کے پاس جانے کی بجائے امام مسجد سے فیصلہ کروانا
سوال
موجودہ دور میں شفعہ کے لئے قاضی کے پاس جانا ضروری ہے یا امام مسجد بھی یہ فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ آجکل عدالتی نظام میں بعض اوقات دس، پندرہ سالوں تک فیصلہ نہیں ہوتا ، براہ کرم رہنمائی فرمائیں؟
جواب
کسی تنازع کے فریقین اگر ذاتی مجبوریوں یا دیگروجوہات کی بناء پر اپنے تنازع کو حل کرنے کا اختیار حکومت کی کسی عدالت کی بجائے کسی شخص کو دیں تو شرعا یہ تحکیم کہلاتا ہے ۔ تحکیم کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ فریقین برضا و رغبت اپنے فیصلہ کا اختیار حَکم کو دیں اور فیصلہ سے قبل کوئی فریق بھی رجوع نہ کرے چنانچہ اگر کسی فریق نے فیصلہ سے قبل رجوع کیا اور حَکم کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تو حَکم کا فیصلہ لازم نہ ہوگا اور اگر حکم تحکیم کی جملہ شرائط کی رعایت کرتے ہوئے فیصلہ کرے تو وہ فیصلہ لازم ہوگا چنانچہ فیصلہ کے بعد کسی فریق کے لئے انکار کی گنجائش نہ ہوگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق فریقین اگر شفعہ کے فیصلہ کے لئے عدالت جانے کی بجائے امام مسجد کو برضا ورغبت اپنا حَکم بنائیں تو شرعا یہ تحکیم کے حکم میں داخل ہے چنانچہ تحکیم کی شرائط کی رعایت کے ساتھ حکم جو فیصلہ کرے گا وہ فریقین پر ماننا لازم ہوگا۔
قوله ( صح لو في غير حد وقود الخ ) شمل سائر المجتهدات من حقوق العباد ۔۔۔۔ قوله ( في كل المجتهدات) أي المسائل التي يسوغ فيها الاجتهاد من حقوق العباد كالطلاق والعتاق والكتابة والكفالة والشفعة والنفقة والديون والبيوع بخلاف ما خالف كتابا أو سنة وإجماعا۔ (رد المحتار، كتاب القاضي، باب التحكيم، ج8، ص127،128)
( فإن حكم لزمهما ) لصدوره عن ولاية شرعية فلا يبطل حكمه بعزلهما۔ (البحر الرائق، كتاب الحوالة، باب التحكيم، ج7، ص44)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 331
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 248
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 907
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 458
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 580
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 499
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 34
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 61
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 481
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 83
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 64
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 328
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1204
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 392
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں