بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

قبل از تعمیر بلڈنگ میں دوکان/فلیٹ بک کروانے ، فروخت کرنے اور کرایہ پر دینے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:

1.زیر تعمیر بلڈنگ میں قبل از تعمیر دوکان/ فلیٹ کی بکنگ کرنا شرعا کیسا ہے؟

2. دوکان/ فلیٹ پر قبضہ سے پہلے اسے فروخت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ 3. تعمیر یا قبضہ سے پہلے اسے کرایہ پر دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

(1) شریعت مطہرہ کی رو سے  معدوم  چیز کی بیع ممنوع ہے تاہم عقد استصناع جائز ہے ، اس کے جواز کے لئے معقود علیہ(مبیع)  کی جنس ، نوع ، صفت ، مقدار کا معلوم ہونا اور اس  پر لوگوں کا تعامل ہونا شرط ہے  لہذا صورت مسئولہ میں  قبل از تعمیر یا زیر تعمیر بلڈنگ میں نقشہ دیکھ کر  دوکان/ فلیٹ   کی بکنگ کرنا عقد استصناع  کے طور پر جائز ہے  چنانچہ اگر  نقشہ دیکھ کر  اس طور پر  دوکان/فلیٹ کی تعیین کی جائے  کہ بعد میں کسی قسم کے جھگڑے اور تنازع کا سبب نہ بنے   ، مثلا:دوکان/فلیٹ نمبر ، منزل ، مربع فٹ ، کمروں کی تعداد ، محل وقوع وغیرہ معلوم ہو جائے، تو ایسی صورت میں دوکان/ فلیٹ کی بکنگ کروانا جائز ہے۔

(2)فلیٹ بک کروانا شرعا عقد استصناع ہے اور عقد استصناع میں جب تک وہ  چیز مستصنع(آرڈر دینے والے) کے  قبضہ میں نہ آجائے  اس میں اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی اس لئے  قبضہ سے پہلے وہ چیز فروخت کرنا شرعا جائز نہیں لہذا جب تک دوکان/ فلیٹ بنانے والا (بلڈر )  دوکان / فلیٹ بک کرانے والے کے قبضہ میں نہ دے دےاس وقت تک بک کرانے والے کے لئے  دوکان/فلیٹ کو آگے بیچنا  جائز نہیں چاہے قسطیں مکمل ادا کی ہوں یا نہ کی ہوں  ۔

(3) چونکہ عقد استصناع میں قبضہ سے پہلے مبیع پر ملکیت ثابت نہیں ہوتی لہذا جب تک فلیٹ / دوکان کا قبضہ نہ مل جائے  اسے کرایہ پر  نہیں دیا جاسکتا ۔

هو (اي الإستصناع) عقد على مبيع في الذمة شرط فيه العمل۔  (بدائع الصنائع ، فصل واما جوازه ، ج5 ، ص2)

وفي البدائع من شروطه بيان جنس المصنوع ونوعه وقدره وصفته وأن يكون مما فيه تعامل ۔  (رد المحتار ، مطلب فى الاستصناع ، ج5 ، ص223)

حكم الاستصناع فهو ثبوت الملك للمستصنع في العين المبيعة في الذمة وثبوت الملك للصانع في الثمن ملكا غير لازم۔  (بدائع الصنائع، فصل و اماصفة الاستصناع ، ج5 ، ص3)


فتویٰ نمبر : 2765/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں