بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

نوٹ کھولنے میں قبضہ کی شرط کا حکم


سوال

میں نے اپنے استاد سے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص آکر دکان دار کو کہے کہ یہ ہزار کا نوٹ سو سو یا دو پانچ سو کر دو اور یہ بھی کہے کہ میں بازار سے سبزی خرید کر آتا ہوں پھر یہ سو سو یا دو پانچ سو کے نوٹ مجھے دو گے تو یہ سود ہے ، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

موجودہ دور میں مروجہ کرنسی نوٹ   ثمن عرفی کا درجہ رکھتے ہیں  اس لئے ایک ہی ملک کے کرنسی نوٹو ں کا تبادلہ برابری کے ساتھ بالاتفا ق جائز ہے ۔مذکورہ مبادلے میں  اگرچہ کمی وزیادتی  جائز نہیں ،لیکن یہ بیع صرف نہیں کیونکہ یہ ثمن عرفی ہے  یعنی لوگوں کے رواج وتعامل کی وجہ سے  ثمن کے درجہ میں آگئے ہیں جبکہ بیع صرف کے احکام صرف  ثمن خلقی (سونا ،چاندی)  میں جاری ہو تے ہیں  لہذا بیع صرف نہ ہونے کی وجہ سے مجلس عقد میں دونوں پرقبضہ شرط نہیں ،تاہم ایک طرف سے  قبضہ پایا جا نا ضروری  ہے تاکہ ادھار کے بدلے  ادھار کی بیع لازم  نہ آئے۔

                صورت مسؤلہ   کے مطابق   اگر  کوئی  شخص  دکاندار   کو ایک  ہزار  کا نوٹ   کھولنے کیلئے دے دے   اور اسی مجلس  میں کھلے  وصول کرنے کی  بجائے  دوسری مجلس میں  کھلے  پیسے  وصول کرے  تو یہ  شرعا سود  نہیں ،کیونکہ  یہ درحقیقت    ثمن عرفی   کا تبادلہ   ہے  جو کہ  بیع  صرف نہیں لہذا عاقدین میں سے  جب ایک نے اسی مجلس  میں ثمن پر قبضہ کر لیا  تو شرعا یہ معاملہ سود کے زمرے میں نہیں آتا ۔

( باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز ) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز۔(تنوير الابصار مع الدر المختار ،كتاب البيوع ،باب الربا،ج7ص414)


فتویٰ نمبر : 2767/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں