بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

"زما نہ خلاصہ ئے " سے طلاق بائن یا طلاق رجعی کا وقوع


سوال

ان الفاظ "زما نہ خلاصہ ئے" سے کون سی طلاق واقع ہو تی ہے ،طلاق بائن یا طلاق رجعی ۔فتاوی فریدیہ میں ان الفاظ کو کنایات میں سے شمار کر کے طلاق بائن کے وقوع پر فتوی صادر فر مایا ہے جبکہ فتاوی عثمانیہ میں ان الفاظ کو صریح میں سے شمار کر کے طلاق رجعی پر فتوی صادر فرمایا ہے،فتاوی عثمانیہ میں طلاق رجعی کےوقوع کےلئے علت یہ بیان کی گئ ہے ،کہ یہ الفاظ عرف میں طلاق کےلئے استعما ل ہوتے ہیں ،لہذا ان الفاظ کے کہنے سے طلاق رجعی واقع ہوگی ،اورفتاوی فریدیہ میں طلاق بائن کے وقوع کیلئے علت یہ بیان کی گئ ہے کہ یہ مذکورہ الفاظ اس جملہ" کہ تو مجھ سے آزاد ہو" کے مترادف ہے اور ان سے عربی میں "سرحتک"سے تعبیر کی جاتی ہے جو کہ فارسی والوں کے عرف میں صریح ہے جبکہ عربی میں کنایہ ہے اور حضرت مفتی فرید ؒ نے اپنے فتاوی میں اسے کنایا ت میں سے شمار کیا ہے کہ پٹھانوں کے عرف میں یہ عربی کی طرح کنایہ ہے اس لئے کہ یہ الفاظ جس طرح ہمارے عرف میں نکاح سے چھوڑنے پر بولا جاتا ہے اسی طرح نفقہ وغیرہ کی خبر نہ لینے اور حقوق زوجیت ادا نہ کرنے پر بھی بولے جاتے ہیں ۔ (2) بنوری ٹاؤن کے استادمفتی شعیب صاحب نے کتاب "الفاظ طلاق کے اصول " میں لکھا ہے کہ ایسا کنایہ جو عرف کی وجہ سے صریح بن جائے ملحق بالصریح کہلاتا ہے اور ملحق بالصریح کے متعلق اہم نکتہ یہ ہے کہ صریح سے لحوق کے بعد اس میں صرف نیت کی شرط ختم ہوتی ہے دیگر احکام میں یہ اپنی اصل پر ہے یعنی قرائن اور دلالت حال کو دیکھ کر اس سے طلاق بائن واقع ہوگی ۔ (3) فتاوی عثمانیہ ج6 ص 16کتاب الطلاق کی تمہید میں مذکور ہے کہ لفظ حرام اور اس جیسے دوسرے کنائی الفاظ جو صرف طلاق کیلئے استعمال ہو تے ہے وہ بھی صریح الفاظ کی طرح اگر چہ نیت کے محتاج نہیں ہوتے لیکن ان الفاظ سے طلاق بائن ہی واقع ہوگی اور پھر آگے ص152 پر ان الفاظ سے طلاق رجعی کا واقع ہو نا مذکور ہے جس سے فتاوی عثمانیہ کے تمہید اور مسائل میں تعارض معلوم ہوتا ہے ۔شرعا ان میں تطبیق کی کیا صورت ہو سکتی ہے ؟

جواب

الفاظ کے اعتبار سے طلاق کی دو قسمیں ہیں :صریحی اور کنائی ۔ صریح سے مراد وہ الفاظ ہیں  جو  طلاق ہی کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں مثلا عربی زبان  میں  لفظ " طلاق"صریحی لفظ ہے جبکہ دیگر زبانوں میں وہ الفاظ صریحی شمار ہونگے جو اس زبان میں  طلاق ہی کیلئے استعمال ہوتے ہو ں ۔صریحی الفاظ سے طلاق رجعی  واقع ہوتی ہے تاہم اگر  طلاق صریحی کے ساتھ کوئی ایسا   وصف یا جملہ  ذکر کیا گیا   جو اس کے معنی میں شدت  ا ور مکمل علیحدگی  کا معنی  پیدا کرے  مثلا کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے  کہ تجھے  قبیح ترین طلاق ہے ،یا تجھے ایسی طلاق ہے  جس  کے بعد میرے لئے جماع  حلال نہ ہو تو ایسی صورت  میں  صریحی الفاظ سے  طلاق بائن واقع ہو گی  جس کواصطلاح میں " صریح  بائن " کہتےہے ۔

دوسری قسم کنائی الفاظ  ہیں اس سے مراد وہ الفاظ ہیں   جو طلاق کے لیےوضع  نہ  ہوں بلکہ طلاق اور غیر طلاق دونوں معنوں کا احتمال رکھتے ہوں ۔مثلا کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ "تو مجھ سے جدا ہے" یایہ کہے کہ "تو مجھ سے بری ہے "۔فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ کنائی الفاظ کا حکم یہ ہے کہ ان میں سوائے تین الفاظ کے بقیہ تمام الفاظ سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے بشرط یہ کہ یا تو شوہر نے طلاق کی نیت کی ہو یا دلالت حال  سے یہ معلوم ہو کہ شوہر نے یہ لفظ طلاق کی نیت سے استعمال کیا ہے ۔تاہم اگر کوئی کنائی   لفظ   کسی خاص عرف  میں طلاق کیلئے اس کثرت سے استعمال ہو نے لگے  کہ اس سے طلاق مراد لیا جاتا ہو تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

(1)اس کنائی لفظ میں حرمت یا مکمل علیحدگی   کا معنی  ہو جیسے لفظ حرام،اس    سے طلاق بائن واقع ہوگی  کیونکہ اس  لفظ  کا تقاضہ یہ ہے  کہ اس کے بعد جماع یا دواعی جماع  دونوں حلال نہ رہیں اور یہ تب  ہو سکتا ہے جب   طلاق بائن واقع ہو ۔فتاوی عثمانیہ  ج6 ص16کی تمہید میں  مذکور  تفصیل اسی لفظ حرام یا اس جیسے الفاظ سے متعلق ہے ۔

(2)اوردوسری صورت یہ ہے کہ کوئی کنائی  لفظ  عرف کی وجہ سے  صرف طلاق ہی  میں متعارف ہو لیکن اس میں مکمل علیحدگی اور  حرمت کا معنی نہ ہونیز  وہ لفظ بولتے وقت  ایسا کوئی لفظ یا جملہ بھی نہ بولا جائے جو  اس کے معنی میں شدت اور سختی پیدا کرے تو ملحق بالصریح ہونے کی وجہ سے طلاق صریح کی  طرح اس سے بھی طلاق رجعی واقع ہوگی مثلا پشتو زبان میں  کوئی شخص اپنی بیوی سے  کہے "تہ ما  نہ خلاصہ ئے "۔چونکہ  عام طور پر عرف میں یہ الفاظ  طلاق کیلئے ہی  استعمال کیے جاتے ہیں لہذا طلاق صریح کی طرح ان الفاظ میں بھی نیت کی ضرورت نہ ہوگیاور ان سے  بھی طلاق رجعی واقع ہو گی   اس لئے کہ اس میں ایساکوئی  زائد وصف   مذکور نہیں  جو طلاق بائن کا مقتضی ہو جیسا کہ صریح بائن میں ہوا کرتا ہے ۔اسی وجہ  جامعہ کے دارالافتاء سے  مذکورہ الفاظ  "تہ ما  نہ خلاصہ ئے "سے طلاق رجعی کا فتوی دیا جاتا  ہے ۔

    ہمارے شیخ حضرت مولانا مفتی محمد فریدؒ سے منسوب "فتاوٰی فریدیہ" میں "تہ ما نہ خلاصہ ئے"کے الفاظ (جو کہ عربی زبان میں ,,سرحتک،،اور اردو زبان میں ,,میں نے تجھے چھوڑ دیا" کے ہم معنی الفاظ ہیں) سے متعلق  متعدد فتاوٰی مذکور ہیں بعض میں ان الفاظ سے طلاق رجعی  واقع ہونے پر فتوی  ہے   جب کہ بعض میں طلاق بائن واقع ہونے  پر ۔چنانچہ فتاوٰی فریدیہ ج5ص335،338اور351 پر  موجود جوابات میں  ان الفاظ سے  طلاق رجعی واقع ہونے کا فتوی دیا  گیا ہے ۔ جبکہ اسی جلد  کے ص358،349،347،342،300اور360میں  مذکورہ الفاظ سے  طلاق بائن واقع ہونے کا فتوی دیا گیا ہے فقہاء کرام کی عبارات اور عرف  کو مد نظر رکھ کر ہمیں اول الذکر فتاوٰ ی  راجح معلوم ہوتے ہیں جن میں ان الفاظ سے طلاق رجعی واقع ہونے کا تذکرہ ہے ۔واللہ تعالی اعلم بالصواب۔

صريحه ما لم يستعمل إلا فيه ( ولو بالفارسة ) كطلقتك وأنت طالق ومطلقة ویقع بھا(بھذہ الالفاظ ومابمعناھا من الصریح(واحدۃ رجعیۃ،وان نوٰی خلافھا او لم ینو شیا۔(تنوير الابصار مع الدر المختار،كتاب الطلاق ،باب الصريح ج4 ص457)

( كنايته ) عند الفقهاء ( ما لم يوضع له ) أي الطلاق ( واحتمله وغيره ( ف ) الكنايات ( لا تطلق بها ) قضاء( إلا بنية أو دلالة الحال ) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب۔(الدر المختار،كتا ب الطلاق ،باب الكنايات،ج4 ص526)

أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت۔(رد المحتار ،كتاب الطلاق ،باب الصريح ،مطلب في قول البحر ان الصريح ۔۔۔ج4 ص464)

إذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ،لكن لما غلب استعمال  حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع  به البائن ،لولا ذالك لوقع به الرجعي ۔۔۔ومثله ما قدمناه في أول باب الصريح من وقوع الرجعي بقوله سن بوش أو بوش أو في لغة الترك مع أن معناه العربي أنت خلية وهو كناية لكنه غلب في لغة الترك استعماله في الطلاق ۔(رد المحتار ،كتاب الطلاق ،باب الكنايات ج4 ص530)

أن لفظ حرام معناه عدم حل لوطء ودواعيه وذلك يكون بالإيلاء مع بقاء العقد وهو غير متعارف ويكون بالطلاق الرافع للعقد وهو قسمان بائن ورجعي لكن الرجعي لا يحرم الوطء فتعين البائن وكونه التحق بالصريح للعرفلا ينافي وقوع البائن به فإن الصريح قد يقع به البائن كتطليقة شديدة والحاصل أنه لما تعورف به الطلاق صار منعها تحريم الزوجة وتحريمها لا يكون إلا بالبائن۔(رد المحتار ،كتاب الطلاق ،باب الكنايات ج4 ص531)

ومن المتأخرين كانوا يفتون بأن لفظ التسريح بمنزلة الصريح يقع به طلاق رجعي بدون النية ۔(البحر الرائق،كتاب الطلاق ،باب الكنايات ،قوله "سرحتك ،فارقتك" ج3 ص524)


فتویٰ نمبر : 6184/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں