بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

کنیسہ ،آتش کدہ ،حجام یا ٹی وی کے کاروبار کرنے والے کو دکان کرایہ پر دینا


سوال

دکان یا مکان کسی کو اجارہ پر دینا کہ وہ اس میں کنیسہ ،آتش کدہ ،یا نائی کا کام یا ٹی وی کا کاروبار یا کوئی اور خلاف شریعت کام شروع کرے شرعا جائز ہے یا نہیں ؟اگر جائز ہے تو کیا یہ گناہ پر تعاون نہیں ہے؟ وضاحت فرمائیں ۔

جواب

شریعت مطہرہ  نے ہر شخص کو مملوکہ چیز  اجارہ پر دینے کا حق  دے رکھا ہے   لیکن اس شرط کے ساتھ کہ  اس سے شرعی حدود پائے مال  نہ ہو ں ۔صورت مسؤلہ میں (1) کسی مکان کو کنیسہ یا آتش کدہ کیلئے اجارہ پر دینا  درحقیقت  گناہ میں تعاون ہے اور معاشرہ میں غیر مسلموں کے  شعار کو   ترویج واشاعت کا ذریعہ بننا ہے  اس لئے جائز نہیں لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے  اور اگر مکان کرایہ پر دیا ہو تو اگر ممکن ہو  تو فورا  اجارہ   فسخ کر کے  مکان خالی کروایا جائے ۔اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مدت اجارہ ختم ہونے کا انتظار کیا جائے  اور آئندہ اس  طرح کے معاملات میں احتیاط سے کام لیا جائے۔

(2)ٹی وی ایک ایسا آلہ ہے  جسے  جائز کاموں  میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور ناجائز میں بھی اس کے ذریعے معلوماتی ،تعلیمی ،مذہبی اور اصلاحی  پروگرام نشر ہوں  تو یہ تبلیغ اور تعلیم  کا ایک جائز اور  مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔اس حیثیت سے اس کا جائز استعمال بھی  ممکن ہے   اس وجہ سے اس کی خرید وفروخت کا کاروبار کرنا اور اس کیلئے مکان کرایہ پر دیناشرعا جائز ہے  تاہم ہمارے معاشرے میں اکثر چینلز پر بے دین  لوگوں کا قبضہ ہے  اس لئے معاصی میں اس کا استعمال غالب ہے   اس لئے بہتر یہ ہے کہ  ٹیلی ویثرن کا کاروبار کرنے والے کی بجائے کسی دوسرے  جائز کاروبار والے  کو دکان  کرایہ پر دی جائے ۔

(3) اگر حجام(نائی)  سر کے بال کاٹنے ،منڈوانے یا کسی اور جائز  کام  کیلئے مکان کرایہ پر  لیتا  ہو تو شرعا اس   کو مکان کرایہ پر دینے میں کوئی حرج  نہیں  نیز  اس  کا  کرایہ لینا بھی  بغیر کراہت کے جائز ہے  ۔لیکن اگر نائی  اس کے ساتھ  ساتھ  اس مکان میں داڑھی بھی منڈواتا رہے   تو ایسی صورت میں  نائی  کو  دکان  کرایہ پر  نہ دی جائے ۔

لا تصح الإجارة لعسب التيس ۔۔۔ولا لاجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي ۔۔۔جاز ( إجارة بيت بسواد الكوفة ) أي قراها  ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر ) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة ۔ (تنوير الابصارمع الدر المختار ،كتا ب الاجارة،باب الاجارة الفاسدة،ج 6ص393)

وإجارة بيت ليتخذ بيت نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه خمر بالسواد ) يعني جاز إجارة البيت لكافر ليتخذ معبدا أو بيت نار للمجوس أو يباع فيه خمر في السواد وهذا قول الإمام  وقالا يكره كل ذلك لقوله تعالى { وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان }۔(البحر الرائق ،كتاب الاجارة،ج8 ص202)


فتویٰ نمبر : 2768/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں