بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد رشتہ ازدواج قائم کرنا


سوال

بندہ نے اپنی بیوی کوغصہ کی حالت میں تین مرتبہ یہ الفاظ کہے"تهٔ په ما طلاقه ېې"اب میں دوبارہ اس کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کرنا چاہتاہوں،یہ کیسے ممکن ہوگا؟

جواب

تین طلاق دینے کی صورت میں بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔جس کے بعد دوسرے خاوند سے باقاعدہ نکاح وہمبستری اور پھر آزاد ہوئے بغیراس عورت کا نکاح پہلے شوہر سے حلال نہیں۔

صورت مسئولہ میں جب حسب بیان سائل نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تووہ حرمتِ مغلظہ کے ساتھ اس پر حرام ہوگئی ہے۔ اب اگروہ اس مطلقہ عورت کےساتھ  دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہتا ہو تو یہ اس وقت ممکن ہے جب یہ عورت اس پہلے شوہر سے عدت گزار کر اپنی مرضی واختیار سے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور اس دوسرے شوہر سے ہمبستری بھی ہوجائے۔اس کے بعد اگر وہ اسے طلاق دے دے یافوت ہوجائے تو اس دوسرے شوہر سے عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

قال اللہ تعالی :فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ   (البقرۃ: 230)

عن عائشة قالت جاءت إمرأة رفاعة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت  كنت عند رفاعة فطلقني فبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير وإن ما معه مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك۔(الصحیح لمسلم،کتاب النکاح،ج1ص533)

إن كان الطلاق ثلاثا فى الحرة أو ثنتين فى الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها۔  (الھدایۃ،باب الرجعۃ فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج2 ص 409)


فتویٰ نمبر : 6183/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں