بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

گاؤں شگی لواغر میں نماز جمعہ


سوال

ہمارا گاؤں (شگی لواغر ) ایک پہاڑی علاقہ ہے جو کرک شہر سے تقریبا پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر شروع اور گیارہ کلو میٹر کے دوری پر ختم ہوتا ہے ۔ ہمارے علاقے سے پہلے دو گاؤں (کندہ لواغر ) اور (دبلی لواغر ) بھی آتے ہیں اور بعد میں (فقیر آباد ) ایک گاؤں آتا ہے ۔ کندہ لواغر اور فقیر آباد میں مفتیان کرام نے جمعہ کی نماز شروع کی ہے لیکن دبلی لواغر میں ابھی تک جمعہ کی نماز شروع نہیں ہے کندہ لواغر کرک شہر سے ایک کلو میٹر کے دوری پر واقع ہے اور دبلی لواغر شہر سے تین کلو میٹر اور ہمارے گاؤں کے بعد میں آنے والے فقیر آباد شہر سے بارہ کلو میٹر کے دوری پر واقع ہے ۔اب ہمارے علاقے (شگی لواغر ) کی نوعیت کچھ اس طرح ہے کہ پورہ علاقہ شرقا وغربا تقریبا چھ کلو میٹر اور شمالا و جنوبا تین کلو میٹر رقبے پر مشتمل ہے پورے علاقے کی آبادی تقریبا چھ ہزار ہے جس میں زنانہ و مردانہ ووٹ چار ہزار ہے ۔ایک ہسپتال ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دو ،تین میڈیکل سٹور بھی ہیں دو مردانہ سرکاری پرائمری سکول ہیں اور ایک زنانہ پرائمری سکول ہے اور ایک پبلک ہائی سکول زنانہ ومردانہ مشترکہ ہے اور ہائیر سیکنڈری سکول شگی لواغر اور دبلی لواغر دونوں علاقوں کا مشترکہ ہے جو بلکل دونوں گاؤں کے درمیان باونڈری پر واقع ہے اور پانچ دینی مدارس ہیں جس میں تین مدارس مردوں کے اور دو مدارس عورتوں کے ہیں ۔ اور پورے گاؤں میں اٹھارہ مساجد ہیں جس میں تقریبا ہر مسجد میں قرآنی درس وتدریس بھی جاری ہے اور اگر پورے گاؤں کے لوگ گاؤں کی ایک بڑی مسجد میں جمع ہو ں تو اسی مسجد میں یہی لوگ نہیں آتے ہیں اور ابھی گاؤں میں ایک بڑی مسجد بالخصوص جمعہ کی نماز کے لیے بنائی گئی ہے لیکن ابھی تک اس میں نماز شروع نہیں ہوئی۔ اور عید گاہ علاقے میں اپنا نہیں لیکن شہر کی عید گاہ یعنی ہمارے گاؤں کے اکثر لوگ شہر کی عید گاہ میں عید کی نماز پڑھتے ہیں ۔علاقے کی مین روڈ 1992 ء میں پختہ ہوا تھا لیکن ابھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔پختہ گلیاں نہیں ہیں ۔بلکہ سارےگلیاں کچے ہیں ۔گھروں کے درمیان اتصال مختلف ہے بعض گھر بالکل متصل ہیں اور بعض کے درمیان 100 میٹر بعض کے درمیان 300میٹر اور بعض کے درمیان 500میٹر کا فاصلہ ہیں بعض گھر تو 1000میٹر تک دور ہیں ۔ اور محلوں کے درمیان اتصال بھی مختلف ہے بعض محلے بالکل متصل ہیں اور بعض کے درمیان فاصلہ میٹروں میں ہے اور بعض محلے تو دوسرے محلوں سے قریبا ایک کلو میٹر تک دور ہے ۔بازار تو مستقل نہیں ہے لیکن دکانیں موجود ہیں جو تقریبا اٹھارہ تک ہیں لیکن متصل نہیں بلکہ فاصلے میں ہیں اور اسی طرح عورتوں کی میک اپ ،کپڑے ،چپل ،وغیرہ یعنی کاسمیٹکس کی اپنی دکانیں بھی گھروں کے اندر موجود ہیں جس کو عورتیں ہی چلاتی ہیں اور ان اٹھارہ دکانوں میں تقریبا ضروریات زندگی کا پورا سامان ملتا ہے جیسے آٹا ،گھی ،چینی ،چاول ، دال ، کرخے ، سبزی ، میوہ جات ، پٹرول وغیرہ سوائے بڑے گوشت کے ۔لیکن گاؤں کے اکثر لوگ شہر کے قریب ہونے کی وجہ سے خریدوفروخت کے لیے بازار یعنی کرک شہر جاتے ہیں کیونکہ ابھی تقریبا ہر گھر میں موٹر سائیکل کی سہولت موجود ہے اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بازار جاتے ہیں ۔ اور علاقے میں نان بائی ،پکوان ،حجام ،نجار یعنی ترکان ،ٹرانسپورٹ وبلڈنگ بنانے کی مستری اور پانچ آٹے کی مشینیں بھی موجود ہیں اور ایک بلاک فیکٹری بھی ہے جو روزانہ کے اعتبار سے بلاک بناکر فروخت کرتا ہے ۔لیکن ڈاکخانہ اور پولیس چوکی شہر کے قریب ہونے کی وجہ سے موجود نہیں ہے ۔ اور پہلے پورے علاقے کا ایک قبرستان تھا لیکن ابھی ہر محلے والوں نے اپنا اپنا قبرستان بنایا ہے ۔اور پورے علاقے میں بجلی کی کھمبیں اور تاریں ،ٹرانسفارمر لگے ہیں کرنٹ صرف آدھے گاؤں کو دیا گیا ہے لیکن آدھے گاؤں کو کرنٹ چندوجوہات کی بنا پر روکا ہوا ہے اس پر بھی جلد کام شروع ہوجائے گا ۔اور گیس پورے گاؤں کو لگا ہوا ہے لیکن حکومت کی اجازت کے بغیر اپنی مدد آپ کے تحت لگایا ہوا ہے۔ پانی کی بندوبست کے لیے ہر گھر والے نے اپنا ایک بور کھودا ہے اور اسے اپنےپانی کی ضرورت پوری کرتے ہیں اگر چہ ایک ٹیوب ویل بھی موجود ہے۔ اب حل طلب مندرجہ ذیل امور ہیں ۔ 

  1. کیا ہمارے گاؤں میں مذکورہ نوعیت کی اعتبار سے جمعہ کی شرائط متحقق ہے یا نہیں ؟
  2.  اگر شرائط موجود ہیں تو کیا جمعہ کی نماز نہ کرنے کی وجہ سے اہلیان علاقہ گناہ کی مرتکب ہوتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

جمعہ کے وجوب ادا کے لیے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرط مصر یا بڑا گاؤں ہےبڑا گاؤں وہ ہے جس میں بنیادی ضروریات  پائی جاتی ہوں ۔موجودہ دور میں جس علاقہ کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور ضروریات زندگی اس میں میسر ہوں تو وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا اوراس میں  جمعہ پڑھنا جائز ہوگا ۔اور توابع شہر میں کلو میٹر اور فاصلے کا کوئی اعتبا ر نہیں بلکہ توابع سے شہر کے مضافات میں واقع وہ آبادی مراد ہے جو مستقل گاؤں یا قصبہ نہ ہو بلکہ عرف میں شہر ہی کے تابع شمار ہوتی ہو ۔چنانچہ جو آبادی شہر سے باہر ہو اور مستقل ایک گاؤں کی حیثیت رکھتی ہو اور عرف میں بھی وہ ایک الگ گاؤں شمار ہوتا ہو تو اگر وہ خود بڑاگاؤں نہ ہو تو اس میں نماز جمعہ جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر مذکورہ گاؤں (شگی  لواغر ) میں مذکور شرائط موجود ہوں اوراس ایک ہی گاؤں (شگی لواغر ) کی آبادی 6000 ہو الگ الگ مستقل گاؤں نہ  ہوں تو اس گاؤں میں نماز جمعہ کا انعقاد صحیح ہے ۔نیز بہتر یہ ہے کہ مقامی علمائے کرام و مفتیان حضرات  سے بھی رجوع کیا جائےکیوںکہ وہ علاقے کی نوعیت کو بہتر جانتے ہیں ۔

(2)اگر شرائط موجود ہیں اور پھر بھی نماز جمعہ نہیں پڑھایا جاتا تو گاؤں والے گنہگار ہوں گے  کیونکہ اس وقت وہ واجب کو چھوڑنے والے ہوں گے  ۔

تقع فرضا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا اسواق۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الصلوۃ ،باب الجمعۃ ج3 ص6)

لاتصح الجمعۃ الا فی مصر جامع او مصلی المصر ولا تجوز فی القری ۔(الھدایۃ ،کتاب الصلوۃ ، باب الجمعۃ ،ج1ص 177)


فتویٰ نمبر : 8733/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں