بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 15/08/2026 |
دارالافتاء
مسجد کو شرعی عذر کے بغیر شہید کرنا
سوال
جامع مسجد عمر فاروق واقعہ جی ٹی روڈ نزد ڈائیو بس ٹرمینل جو کہ سابقہ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس (جی ٹی ایس) کے ورکشاپ کی آرضی ہے اور پشاور مین جی ٹی روڈ پر واقع ہے یہ مسجد بمعہ ورکشاپ کے 1950ء میں قائم ہوئی ۔ اور 1994 ء میں جی ٹی ایس کو مساجد کے بغیر نیلام کر دیا گیا اور تمام آبادی بھی نیلام کردیا گیا اور مساجد جہا ں بھی ہوں چھوڑ دیا ۔محکمہ ختم ہونے کے باوجود اس کی تمام مساجد قیم رہیں ۔اور عبادات کا سلسلہ جاری وساری رہے ۔2010 ء میں مسجد کے ساتھ خالی زمین کو سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ حوالہ کر دیا گیا ۔اب گورنمنٹ کسی پارک یا تفریح گاہ یا کسی دیگر سرگرمی کے لیے مسجد شہید کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یہ مسجد کسی راستہ میں رکاوٹ یا دوسرے کسی اہم مقصد میں رکاوٹ نہیں ہے ۔ یہاں باقاعدہ باجماعت پانچ وقت کی نماز ، نماز جمعہ ، عیدین ادا کی جاتی ہیں ۔ لہذا آپ صاحبان سے درخواست ہے کہ ایک فتوی جاری فرمائیں کہ کسی شرعی حاجت اور ضرورت کے بغیر مسجد شہید کرنے کا موجودہ حکومت کیا جواز رکھتی ہے ۔اسلامی تناظر میں صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لیے آپ کا فتوی درکار ہے ۔
جواب
شرعی نقطہ نظر سے مسجد کی زمین خریدوفروخت سے مستثنی ہوتی ہے یعنی اس کی خرید وفروخت جائز نہیں کیونکہ خریدوفروخت اس زمین کی ہوسکتی ہے جو کسی کی ملکیت میں ہو اور مسجد کی زمین کسی کی ملکیت میں نہیں ہوتی ۔اس لیے اگر مسجد کے ساتھ متصل زمین خرید وفروخت کے لیے نیلام کی جائے توبھی مسجد کی زمین اس سے مستثنی رہے گی ۔
صورت مسئولہ میں جب گورنمنٹ نے کسی خاص وقت میں اس جگہ کومسجد کے لیے خاص کر کے باقاعدہ مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دی ہو اور اس اجازت پر مسجد بنائی گئی ہو اور اس میں سالہا سال تک نماز باجماعت پڑھی گئی ہو تو اب یہ قیامت تک مسجد ہی کے حکم میں رہے گی ۔لہذا شرعا اس مسجد والی زمین کی خریدوفروخت جائز نہیں اس لیےاگرمسجد کے متصل تمام آباد اور غیر آباد زمین نیلام ہوجائے تو بھی مسجد کی زمین اس سے مستثنی رہے گی لہذاایسی صورت میں کسی بھی ضرورت مثلاً پارک ،سیرگاہ وغیرہ کے لیے مسجدکو گرانایا مسمار کرناشرعاًٍ جائزنہیں ۔بلکہ ایک پاکستان جیسے معاشرہ میں مسجد ایک معاشرتی اور شرعی ضرورت ہے جو بھی اس کےقرب وجوار کی زمین خرید لےگا اور کوئی تعمیر کرےگا تو مسجد اس کی بھی ضرورت ہوگی لہذا اس زمین کو مسجد ہی کے لیے خاص رکھنا لازم ہے ۔
مطلب فيما لو خرب المسجد أو غيره ( قوله : ولو خرب ما حوله ) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر ( قوله : عند الإمام والثاني ) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر ، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي ، وأكثر المشايخ عليه مجتبى وهو الأوجه فتح ۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الوقف ،ج6ص548)
( فإذا تم ولزملا يملك ولا يعار ولا يرهن ) قوله ( لا يملك ) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه ۔(ردالمحتار ،کتاب الوقف ،ج4ص352)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں