بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 10/10/2026

دارالافتاء

 

مجنون کے مال وجائیداد کی تولیت اورزندگی میں اس کی جائیداد کی تقسیم کاحکم


سوال

: کیافرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ایک مجنون شخص کو اس کے والدنےاپنی حیات میں کچھ زمین ہبہ کی تھی،اوراس کے سگے بھائی (اپنے دوسرےبیٹے) کی تولیت میں دی تھی،اس کے علاوہ مجنون کے دواورسوتیلے (باپ شریک) بھائی بھی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ والد کی وفات کے بعد اب اس زمین کی تولیت کاحقدار کون ہے؟نیز کیااس کی زندگی میں دوسرے بھائی اس کی زمین کوآپس میں تقسیم کرسکتے ہیں یانہیں؟

جواب

شریعت نےمجنون کی خیرخواہی  کی خاطراس کے تصرفات کوغیرمعتبر قراردیاہےاور اس کےمال وجائیدادکااختیار اس کےولی کودےدیاہےکہ وہ اس کے مال میں ایساتصرف کرے گاجومجنون کے حق  میں فائدہ مند ہو۔پھر مال میں ولایت اور سرپرستی کاحق باپ،اس کےوصی،دادا،اس کےوصی اورقاضی کوترتیب وار حاصل ہے۔

                صورت مسئولہ میں اگر  واقعی مجنون کے سگے بھائی ہی کو اس کے والدنے اس کی زمین وجائیداد کی تولیت سونپی ہو تومجنون کی حیات میں وہی اس کی تولیت کاحقدار ہے،نیزعصبات کی ترتیب سے بھی سگابھائی چونکہ سوتیلے بھائی پرمقدم ہےاسی لئےولایت کی ترتیب سے بھی اس پرمقد م ہوگا۔لہٰذا جب تک یہ مجنون شخص زندہ رہے تب تک اس کی جائیداد کی نگرانی  اور تولیت اس کے سگے بھائی کے پاس رہے گی۔جسے وہ اپنے بھائی کے مفاد کے لیے استعمال میں لائے گا،شرعاً اسے  کسی ایسے تصرف کی اجازت نہیں جواس مجنون  کے حق میں مضر ہو۔پھر مجنون کی زندگی میں  اس کی یہ جائیداداور دیگراموال  اس کے بھائی  یادیگرورثا آپس میں تقسیم نہیں کرسکتے ۔البتہ اس کے انتقال کے بعد اصول میراث کے مطابق اسے ورثاکے درمیان تقسیم کیاجائے گا۔

"قوله ( لا المال ) فإنه الولي فيه الأب ووصيه والجد ووصيه والقاضي ونائبه فقط".(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب النکاح،باب الولی،ج4ص190)

"وأقرب الأولياء إلى المرأة الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أبو الأب وإن علا۔۔۔ثم الأخ لأب وأم ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم ثم ابن الأخ لأب وإن سفلوا الخ". (الفتاوٰی الھندیۃ،کتاب النکاح ،الباب الرابع فی الأولياءج1ص349)

"ولايصح تصرف المجنون المغلوب بحال".(كنزالدقائق على صدرالبحرالرائق،كتاب الإكراه،باب الحجر،ج8 ص142)


فتویٰ نمبر : 4525/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں