بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

مضاربت ميں شركت سے پہلے باہم نفع ونقصان میں اشتراک


سوال

ایک رب المال جنوری میں مضاربت کے لیے رقم دے دے دوسرا جولائی میں جس نے جنوری میں رقم دی تھی اس رقم پر ایک گاہک کو ماہانہ کے حساب سے فریج قسطوں پر خرید کر دے دیا یہ گاہک کسی عذر کی بناء پر قسط جمع نہیں کر سکا اور اگست میں ساری رقم یک مشت جمع کردی تو اس سے ملنے والے منافع میں وہ رب المال شریک ہوگا یا نہیں جس نے جولائی میں مضاربت کے لیے رقم دی تھی یا نقصان کی صورت میں دوسرے رب المال پر ضمان آئے گا کہ نہیں ؟نیزارباب الاموال کی رقوم کو شرعاً مخلوط کرنا کیسا ہے؟

جواب

مضاربت میں جس رب المال کی رقم سے جو چیز خریدی جائے  اس  کا نفع ونقصان اسی رب المال کا شمار ہوگا دوسرا رب المال اس میں شریک نہ ہوگا۔

جب ایک رب المال نے مضاربت کے لیے رقم دی اور مضارب نے اس رقم سے کوئی چیز خرید لی تو نفع و نقصان میں وہی رب المال شریک ہوگا بعد میں آنے والا رب المال جس کی رقم اس چیز کی خریداری میں خرچ نہیں ہوئی  عدمِ شرکت کی وجہ سے نہ نفع کا استحقاق رکھے گا اور نہ ہی اس کو  نقصان کا ضامن ٹھہرایا جائے گا ۔

نیز عقد مضاربت میں رب المال نے اگر مضارب کو مطلق اجازت دی ہو یا یہ کہا ہو کہ اپنی مرضی سے کام کرو یا اپنی صوابدید پر کام کروتو اس صورت مضارب کو اجازت ہوگی کہ ارباب الاموال کے سرمائے کو باہم مشترک کرے البتہ اگر مضاربت میں مطلق اجازت نہ ہو اور نہ ہی اس قسم کی کوئی تصریح ہو تو پھر مضارب کے لیے جائز نہیں کے ارباب الاموال کی رقوم کو  مشترک کرے۔

وَأَمَّا الْقِسْمُ الذي لِلْمُضَارِبِ أَنْ يَعْمَلَهُ إذَا قِيلَ له اعْمَلْ بِرَأْيِكَ وَإِنْ لم يَنُصَّ عليه فَالْمُضَارَبَةُ وَالشَّرِكَةُ وَالْخَلْطُ فَلَهُ أَنْ يَدْفَعَ مَالَ الْمُضَارَبَةِ مُضَارَبَةً إلَى غَيْرِهِ وَأَنْ يُشَارِكَ غَيْرَهُ في مَالِ الْمُضَارَبَةِ شَرِكَةَ عِنَانٍ وَأَنْ يَخْلِطَ مَالَ الْمُضَارَبَةِ بِمَالِ نَفْسِهِ إذَا قال له رَبُّ الْمَالِ اعْمَلْ بِرَأْيِكَ وَلَيْسَ له أَنْ يَعْمَلَ شيئا من ذلك إذَا لم يَقُلْ له ذلك۔(بدائع الصنائع،كتاب المضاربة،ج8،ص45)


فتویٰ نمبر : 2759/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں