بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

دیون کی بیع


سوال

ایک شخص کئی لوگوں سے سرمایہ لے کر کاروبار میں لگاتا ہے اور  نئےرب المال کو مضاربت ميں  شامل کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ اس کو باقی ارباب الاموال کے دیون میں شریک بنایا جاتا ہے نیز جب یہ رب المال جاتا ہے تو اس کے دیون میں بھی دیگر ارباب الاموال کو شریک بنایا جاتا ہے شرعاً یہ طریقہ کار درست ہے یا  نہیں اگر نہیں تو متبادل طریقہ کیا ہوسکتا ہے؟

جواب

فقہاء کرام نے دیون کی بیع کو ناجائز قرار دیا ہے صورت مسؤلہ کے مطابق اگر نئے  رب المال کو دیگر ارباب الاموال کے دیون میں شریک بنایا جائےیا  جب  کوئی  مضاربت ختم کرے ہے تو اس کا دین  خرید کر اس کو پورا سرمایہ دے دیا جائے تو یہ دیون کی بیع ہے اور دیون کی بیع ناجائز ہے لہذا مذکورہ صورت شرعا درست نہیں ہے ۔

وَلَا يَنْعَقِدُ بَيْعُ الدَّيْنِ من غَيْرِ من عليه الدَّيْنُ لِأَنَّ الدَّيْنَ إمَّا أَنْ يَكُونَ عِبَارَةً عن مَالٍ حُكْمِيٍّ في الذِّمَّةِ وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ عِبَارَةً عن فِعْلِ تَمْلِيكِ الْمَالِ وَتَسْلِيمِهِ وَكُلُّ ذلك غَيْرُ مَقْدُورِ التَّسْلِيمِ في حَقِّ الْبَائِعِ۔(بدائع الصنائع،ج5،ص148)


فتویٰ نمبر : 2762/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں