بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

ایک مضارب کا کئی ارباب الاموال کے لیے مضاربت کرنا


سوال

ارباب الاموال زیادہ ہوں اور مضارب ایک ہو تو یہ طریقہ کار شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

مضاربت اس عقدکو کہا جاتا ہے جس میں ایک جانب سے سرمایہ اور دوسری جانب سے محنت ہوتی ہے اورنفع عاقدین کے درمیان اس طرح مشترک ہوتا ہے کہ کسی کے لیے نفع میں مخصوص مقدار متعین نہیں ہوتی بلکہ فیصد کے لحاظ سے نفع طے کیا جاتا ہے ۔عقد مضاربت میں مضارب  اور رب المال  ایک سے زائد  بھی ہوسکتے ہیں۔ لہذا کسی ایک مضارب کا کئی ارباب الاموال کے لئے مضاربت کرنا شرعاًجائز ہے۔

إذا أخذ من إنسان مضاربة  ثم أراد أخذ مضاربة أخرى من آخر فأذن له الأول جاز وإن لم يأذن له ولم يكن عليه ضرر جاز أيضا بغير خلاف۔ وقال أكثر الفقهاء  يجوز لأنه عقد لا يملك به منافعه كلها فلم يمنع من المضاربة كما لو لم يكن فيه ضرر كالأجير المشترك۔(المغني،ج5،ص163)


فتویٰ نمبر : 2758/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں