بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

مضاربت ختم کرنے والے کا دیون میں حصہ


سوال

کاروبار میں متعدد لوگوں کا سرمایہ لگا ہےاب ان میں ایک رب المال جس نے  جنوری 2020میں مضاربت شروع کی تھی  ستمبر 2020 میں مضاربت ختم کرنا چاہتا ہے لیکن سب ارباب الاموال کے مشترک رقم سے  قسطوں پر گاہک کو جو اشیاء فروخت کی گئی  ہیں تو اس میں اس رب المال کی رقم بھی شامل ہے اور ان میں کچھ گاہکوں پر اب بھی بقایاجات ہیں جن کی وصول یابی اکتوبریا نومبر میں متوقع ہے  تو اب گاہک کے ذمہ جو بقایاجات ہیں تو اس رقم میں اس رب المال کا حصہ ہوگا یا نہیں ؟

جواب

کوئی رب المال جب عقد مضاربت ختم کرنا چاہے تو کر سکتا ہے ایسی صور ت میں  دیون کی شکل میں جو راس المال لوگوں کے ذمے واجب الاداء ہوتو  اس میں وہ  اپنے حصے کے بقدر حقدار ہوگا۔اگر ایک رب المال نے جنوری میں مضاربت کے لیے پیسے دیے ہیں اور ستمبر میں مضاربت کا عقد ختم کرنا چاہتا ہے جب کہ اس کے سرمائے سے فروخت کی گئی اشیاء کی  رقم ابھی مکمل وصول نہیں ہوئی  تو وہ رب المال  عقد ختم کرسکتا ہے البتہ نفع ونقصان کا پورا حساب تب ہی ہوگا جب وہ دیون وصول ہوجائیں ۔جب اکتوبر یا نومبر میں تمام قسطوں کی ادائیگی ہوجائے گی تو اس وقت بقیہ راس االمال اور طے شدہ معاہدے کے مطابق نفع اس کو دیا جائے گا  ۔

واصل هذا ان الدين المشترك بين اثنين اذا قبض احدهماشيا منه فلصاحبه ان يشاركه في المقبوض(هدايه ،باب الصلح فی الدين،ج3،ص253)

إذَا بِيعَ مَال وَاحِدمُشْتَرَك بِصَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ تُذْكَرْ وَلَمْ تُسَمَّ حِينَ الْبَيْعِ حِصَّةُ أَيِّ وَاحِدٍ مِنْ الشَّرِيكَيْنِ فَالدَّيْنُ الَّذِي فِي ذِمَّةِ الْمُشْتَرِي يَكُونُ دَيْنًامُشْتَرَكًا ۔  (دررالحكام،المادة1095،ج3،ص57)


فتویٰ نمبر : 2760/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں