بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

میعاد مقررہ کے بعدامین کے پاس امانت کے پڑے رہنے کاحکم


سوال

ایک شخص کا اڈہ ہے جس میں وہ مختلف شہروں کو بلٹی پر سامان بھیجتا ہے اور سامان کے مالک کے ساتھ طے ہوتا ہے کہ اس شہر میں چار ماہ تک سامان کو محفوظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاہم اگر چار ماہ میں آپ نے وصول نہ کیا تو پھر میں ذمہ دار نہ ہوں گا ایسی صورت میں اگر کوئی شخص چار ماہ تک سامان وصول نہ کرے اور اڈہ والا دو تین ماہ مزید بھی رکھ لے لیکن پھر بھی مالک نہ آئے تو مجبورا اس کو بیچ دیتے ہیں کیونکہ مزید محفوظ رکھنے پر گودام کا خرچہ بھی آتا ہے اور خراب ہونے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے ، ایسی صورت میں اگر وہ شخص مثلا: دو سال بعد آکر اپنے سامان کا مطالبہ کرے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز اس صورت میں طرفین کے لئے عقد و معاہدہ کرتے وقت کیا طے کرنا چاہئے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے ہر وہ چیز   جو کسی کے پاس  بطور حفاظت موجود ہو چاہے مالک نے  اپنی رضامندی سے بطور امانت اس کے پاس حفاظت کے لئے  رکھی ہو یا کسی عقد کے ضمن میں اس کے پاس امانت ہو ،  جیسے: عاریت یا اجرت پر لی ہوئی چیز  ،  یہ   اشیاء  امانت کے حکم میں  داخل ہیں چنانچہ  اگر کسی کے پاس کسی شخص   نے مقررہ مدت تک امانت رکھوائی ہو اور اس مدت مقررہ تک وہ شخص اپنی امانت و صول کرنے نہ آئے تو ایسی صورت میں اگر امین کو مالک کا پتہ معلوم ہو تو وہ مال اس شخص تک پہنچا دے اور اگر مالک کا پتہ معلوم نہ ہو تو یہ مال تب تک امین کے پاس بطور امانت پڑا رہے گا  جب تک مالک خود یا اس کے ورثاء آکر وصول نہ کر لیں لہذا اگر امین  کا اس مال کی حفاظت پر کوئی خرچہ  آتا ہو تو  وہ مالک سے لینے کا حقدار ہوگا۔

          صورت مسئولہ کے مطابق   اگر چار ماہ کی مقررہ مدت تک مالک آکر اپنا مال وصول نہ کرے تو ایسی صورت میں اول تو مالک کو مال کے وصول کرنے سے متعلق مطلع کیا جائے پھر اگر وہ تساہل سے کام لے تو    اگر اڈہ والوں کو مالک کا پتہ معلوم ہو   تو بہتر یہ ہے کہ   مال  مالک تک پہنچا دیں اور جو  خرچہ  آئے وہ مالک سے وصول کریں    اور اگر اڈہ والے مال نہ پہنچائیں بلکہ مال اڈہ میں ہی پڑارہے یا مالک کا پتہ معلوم نہ ہو تو ایسی صورت میں یہ مال بطور امانت اڈہ والوں کے پاس پڑا رہے گا  چنانچہ وقت مقررہ کے بعد  اگر اس مال کی حفاظت پر کوئی  اضافی خرچہ آتا ہو تو  اڈہ والے مالک سے  یا مالک کے بالکل غائب ہونے کی صورت میں اس کے مال سے  وہ خرچہ  وصول کرنے کے حقدار ہونگے۔

          نیز یہ کہ  طرفین  کے عقد کے وقت اڈہ والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ مالک کا مکمل پتہ معلوم کریں  تاکہ  مالک کے  مال وصول نہ کرنے کی صورت میں مالک تک مال پہنچانے یا مال کے وصول کرنے سے متعلق مالک کو اطلاع دینے  میں دشواری نہ ہو ۔

غاب المودع ولا يدري حياته ولا مماته يحفظها أبدا حتى يعلم بموته وورثته كذا في الوجيز للكردري ولا يتصدق بها بخلاف اللقطة۔  (الفتاوى الهندية ، الباب السابع فى رد الوديعة ، ج4 ، ص354)


فتویٰ نمبر : 2764/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں