بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

الیکٹرانک سگریٹ پینے کی شرعی حیثیت


سوال

 ایک مسئلہ پوچھنا ہےکہ ایک الیکٹرانک سگریٹ نما چیز آج کل کا نوجوان طبقہ استعمال کرتا ہے پلوریل نام لیا جاتا ہے اس کا ایک خاص قسم دھواں ہوتا ہے اور منہ میں ذائقہ چھوڑتا ہے۔ اس کے استعمال کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

سگریٹ نوشی کے مضراثرات کسی سے مخفی نہیں ۔ میڈیکل سائنس کے ماہرین مختلف تجربات اورتحقیقات کی روشنی میں اس بات پرمتفق ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت ِانسانی کے لیے مضراوربے شماربیماریوں کاپیشِ خیمہ ہے تاہم یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عموماًسگریٹ نوشی کے مضراثرات فوری طورپرمرتب نہیں ہوتے بلکہ اس میں ایک عرصہ درکارہوتاہے نیز سگریٹ نوشی کی مضرت ہرشخص کے حق میں قطعی و یقینی نہیں اس لیے اس پرقطعی حرمت کاحکم لگانامشکل ہے  البتہ اس میں  فی الجملہ مضرت  موجودہے نیز دوسرے لوگوں کو بھی اس کی بد بو سے یقینا اذیت پہنچتی ہے اس لیے اس کا استعمال کراہت سے خالی نہیں چونکہ مارکیٹ میں مختلف اقسام کے سگریٹ دستیاب ہیں اس لیے سب کا ایک ہی حکم بیان نہیں کیا جاسکتا تاہم درجہ ذیل تفصیل سے ہرقسم  کا حکم سمجھا جا سکتا ہے ۔

(1)اگر کوئی سگریٹ ایسے مواد پر مشتمل ہو جو عقل و حواس میں فتور پیدا کرے اور نشہ دے تو اس کا استعمال ناجائز اور حرام ہے ۔

(2)اگر کوئی سگریٹ نشہ آور مواد سے خالی ہو تو عام حالات میں عام افراد کے لیے حرام تو نہیں لیکن  صحت کے مضر ہونے کے اندیشہ کی وجہ سے کراہت سے خالی نہیں ۔

(3)مسجد میں سگریٹ نوشی یاسگریٹ نوشی کے بعدمنہ سے بدبوزائل کیے بغیرمسجدمیں داخلہ مکروہِ تحریمی ہے

(4) وہ مقامات یامجالس جہاں سگریٹ نوشی سے دوسرے لوگ سگریٹ کی بدبوسے متأثرہوتے ہوں اور اُنہیں اذیت پہنچتی ہو وہاں بھی سگریٹ نوشی مکروہِ تحریمی ہے۔

(5)جو شخص کسی ایسی بیماری میں مبتلاہوجس کے لیے سگریٹ نوشی یقینامضرہواوریاکوئی ماہرڈاکٹرکسی کو سگریٹ نوشی سے اجتناب اور پرہیزکاحکم دے دے  توایسے شخص کے لیے سگریٹ نوشی مکروہ تحریمی ہوگی کیونکہ جان بچاناواجب اورجان بوجھ کراپنی صحت کو خراب کرناناجائزہے۔

(6 اگرحکومت ِ وقت مفادِعامہ یااقتصادی وجوہات کی بناپرسگریٹ نوشی کومطلقاًیاکسی خاص موقع یا محل میں ممنوع قراردے تووہاں سگریٹ نوشی مکروہ تحریمی ہوگی کیونکہ حاکم جب مفادِعامہ کی خاطرکسی مباح چیزکے استعمال پرپابندی لگائے تووہ چیزشرعا ناجائز  ہوجاتی ہے۔

  قال اللہ تعالی:{ولا تقتلوا أنفسکم إن ﷲ کان بکم رحیما}(النساء:۲۹)

عن عبد اللہ بن عمرو عن النبی ﷺ ’’ المسلم من سلم المسلمون من لسانہٖ ویدہ۔‘‘(صحیح البخاري،ج 1 ص 6)

عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من أكل من هذه أول مرة الثوم ثم قال الثوم والبصل والكراث فلا يقربنا في مسجدنا۔ (سنن الترمذي كتاب الأطعمة ج 2 ص 3)

وليس من الكبائر تناوله المرة والمرتين ومع نهي ولي الأمر عنه حرم قطعا على أن استعماله ربما أضر بالبدن نعم الإصرار عليه كبيرة كسائر الصغائر۔(الدر المختار شرح تنوير الأبصار،کتاب الاشربۃج10ص43 )

وفي الأشباه في قاعدة الأصل الإباحة أو التوقف  قلت فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته إلحاقا له بالثوم والبصل بالأولى فتدبر۔(الدر المختار شرح تنوير الابصار,کتاب الاشربۃج10ص44)

فقول الشارح إلحاقا له بالثوم والبصل ۔۔۔قال أبو السعود : فتكون الكراهة تنزيهية ، والمكروه تنزيها يجامع الإباحة۔(ردالمحتار على الدر المختار ،كتاب الأشربةج10ص44)


فتویٰ نمبر : 4580/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں