بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

جناز ہ گاہ کے اوپر کمیونٹی سنٹر بنانا


سوال

ہمارے علاقے میں وقف جنازه گاہ کی چھت یعنی سیکنڈ فلورپر کمیونٹی سنٹر کی تعمیر کا سرکاری ٹینڈر ہوا ہے گاؤں کے بعض اہل علم نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے جس کی وجہ سے گاؤں کے زیادہ تر لوگ اس تشویش میں ہیں کہ کیا جنازہ گاہ کی چھت پر کمیونٹی سنٹر بنانا جائز ہے یا نہیں اس حوالےسے شرعی رہنمائی فرمائیں ؟

جواب

جب کوئی زمین مسجد ،قبرستان ،یا جنازہ گاہ کے لیے وقف کی جائے تو وقف تام ہونے کے بعد موقوفہ جائیداد ميں واقف یا کسی اور شخص کو مصرف وقف کے علاوہ کسی تصرف کا حق حاصل نہیں بلکہ جس مقصد کے لیے وقف ہے اس میں استعمال کرنا لازمی اور ضروری ہے ۔

صورت مسئولہ میں واقف نے جس زمین کو جنازہ گاہ کے لیے وقف کردیااور وقف تام بھی ہو چکا ہے تو اس زمین کو جناز ہ گاہ کے علاوہ دوسرے مصارف میں استعما ل کرنا جائز نہیں لہذا جناز ہ گاہ کی دوسری منزل میں کمیونٹی سنٹر قائم کرنا شرعاًجائز نہیں۔

 ( فإذا تم ولزم لایملک ولا یملک ،ولا یعار ،ولا یرھن ) قال ابن عابدین : ( قوله : لا يملك ) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ،(ولا يملك )أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه۔(رد المحتار على الدر المختار ،كتاب الوقف ،مطلب فرق ابو يوسف بين قوله "موقوفة"ج6ص539)

فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك ، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية۔(ردالحتار على الدر المختار كتاب الوقف مطلب شرائط الواقف ج6ص527 ) 


فتویٰ نمبر : 4523/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں