بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

عمر بھر کمائی وقف کرنے کی نذر ماننا


سوال

اگر میں نے اپنی بیوی سے ہر قسم گناہ کا کام کیا تو میں ساری عمر میں جو پیسے کماؤں گا وہ لازمی مدرسہ،مسجد یا مسکینوں کے لیے وقف کردوں گا۔اب میں نے وہ گناہ کاکام کیا ہے،لیکن اب جو پیسے میں کماتا ہوں ،وہ میرے لیے مدرسے،مسجد یا مسکینوں کےلیے لازمی وقف کرنا سخت دشوار ہے۔لہذا اب میرے لیے شریعت میں کیا حکم ہے؟

جواب

جب کوئی شخص اپنی نذر کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرتاہے تو وجودِشرط  کی صورت میں اس پر بعینہ وہ  منذور چیز واجب ہوجاتی ہے،تاہم اگراس کی ادائیگی اس کےلیےممکن نہ ہوتو کفارہ یمین کی ادائیگی سے اس کا ذمہ فارغ ہوسکتاہے۔صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی ساری زندگی کی کمائی کو مدرسہ ،مسجد یا مسکینوں کےلیے وقف کرنےکی نذر مانی ہے۔اس کے بعد اگروہ شرط پوری ہوگئی ہےتواب اس پر نذر پورا کرنا لازم ہے۔لیکن اگر سائل کےلیے اس نذر کا پوراکرناممکن نہ ہوتو  کفارہ یمین دےکرنذر سے فارغ ہوسکتا ہے۔کفارہ  یمین یہ ہے کہ دس مسکینوں کودو وقت کا مناسب کھانا کھلایاجائے،یادس مسکینوں کو کپڑے دیے جائیں ،یا غلام آزاد کرلیاجائے،اگر ان میں سے کسی پر بھی قدرت نہ ہوتوحنفیہ کے نزدیک مسلسل تین روزے رکھ لے۔

فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّام(المائدة،الآية:89)   

وَعَنْ أبي حَنِيفَةَ أَنَّهُ رَجَعَ عنه فقال إنْ فَعَلْت كَذَا فَعَلَيَّ حَجَّةٌ أو صَوْمُ سَنَةٍ أو صَدَقَةُ ما أَمْلِكُهُ أَجْزَأَهُ عن ذلك كَفَّارَةُ يَمِينٍ  وهو قَوْلُ مُحَمَّدٍ وَيَخْرُجُ عن الْعُهْدَةِ بِالْوَفَاءِ بِمَا سَمَّى.(البحرالرئق،كتاب الأيمان ، ج4ص320)

ومن شروطه أن يكون قربة مقصودة فلايصح النذر بعيادةالمريض.....وإن كانت قربا لأنها غير مقصودة،فهذا صريح فى أن الشرط  كون المنذور نفسه عبادة مقصودة لاماكان من جنسه، ويدل عليه أنهم صححوا النذر بالوقف لأن من جنسه واجبا وهو وقف مسجد للمسلمين وقد علمت أن بناء المسجد غير مقصودة.(منحة الخالق حاشية البحر الرائق،كتاب الأيمان،ج4ص498)


فتویٰ نمبر : 4524/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں