بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

پاسپورٹ پر گاڑی خریدنے کے عوض رقم وصول کرنا


سوال

ایک آدمی دوبئی سے گاڑی پاکستان انپورٹ کرتا ہے لیکن اپنے پاسپورٹ پر صرف ایک گاڑی لانے کی اجازت ہے وہ دوسرے شخص سے پاسپورٹ لےکر دوسری گاڑی پاکستان لاتا ہے اور اس پاسپورٹ والے کو ایک لاکھ روپیہ دیتاہے اس شخص کے لیے جس نے اپنا پاسپورٹ دیا ہے ایک لاکھ روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات  یا منافع  کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے عقد اجارہ کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ معقود علیہ مال متقوم ہو اور اس سے حاصل کی جانے والی منفعت منفعت مقصودہ ہو چونکہ حکومت کی جانب سے پاسپورٹ کا جاری کرنا آمدورفت کے لئے ہوتا ہے   اور اس کی خرید وفروخت کی کوئی اجازت نہیں ہوتی اس لئے یہ کوئی مال متقوم نہیں اور نہ ہی اس  سے گاڑی منگوانا کوئی منفعت مقصودہ ہے ۔

         صورت مسئولہ کے مطابق کسی  کمپنی  کو یا ایجنٹ کو اپنا پاسپورٹ   اس لئے دینا کہ وہ اس پر  باہر سے  گاڑی پاکستان لائے  اور محض اس پاسپورٹ دینے کے عوض اجرت  کی لین دین جائز  نہیں تاہم اگر حکومت کی جانب سے دوسرے کے پاسپورٹ پر گاڑی منگوانے  پر پابندی نہ ہو تو بغیر كسی اجرت كے  کسی دوسرے کے پاسپورٹ کو استعمال میں لاکر گاڑی منگوانا جائز ہے لیکن اگر حکومت کی جانب سے اجازت نہ ہو  تو  اس کام میں جھوٹ ،  دھوکہ اور قانون کی  خلاف ورزی شامل ہے لہذا  ایسی صورت میں کسی دوسرے کے پاسپورٹ پر گاڑی منگوانا جائز نہیں۔

طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض۔   (بدائع الصنائع ، كتاب السير ، فصل فى بيان احكام البغاة ، ج7 ، ص140)

ومنها أن يكون مالا لأن البيع مبادلة المال بالمال۔  (بدائع الصنائع ، فصل و اما الذي يرجع الى المعقود عليه ، ج5، ص549)

وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف۔   (الدرالمختار على التنوير الابصار ، كتاب البيوع ، ج4، ص518)

ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها۔  (الفتاوى الهندية ، الباب الثاني فى بيان انه متى تجب الأجرة ، ج4 ، ص413)


فتویٰ نمبر : 2757/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں